خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 282

$1943 282 خطبات محمود پوچھا کہ یار سول اللہ !اگری پڑی چیز کے متعلق کیا حکم ہے۔آپ نے فرمایا اگر تمہیں کہیں کوئی مرغی مل جائے یا بکری مل جائے تو اسے لے لو اور اِدھر اُدھر آواز دو تاکہ تمہیں اس کا مالک مل جائے۔اگر مل جائے تو وہ چیز اس کے حوالے کر دو۔نہیں تو خود لے جاؤ کیونکہ اگر تم نہیں لے جاؤ گے تو بھیڑیا اسے لے جائے گا۔لیکن اگر کوئی تھیلی پڑی ہوئی تمہیں مل جاتی ہے یا کوئی ایسا مال ملتا ہے جو معین صورت میں پہچانا جا سکتا ہے تو اس کو ایک عرصہ دراز تک بطور امانت اپنے پاس رکھو۔اور جب بھی کسی مجلس میں جاؤ اعلان کر دیا کرو کہ مجھے ایک تھیلی ملی ہے یا کچھ مال ملا ہے جس کا ہو وہ پتہ بتا کر لے جائے۔مثلاً تحصیلی ہو تو مالک اس کا رنگ بتائے گا، رقم کی مقدار بتائے گا۔اسی طرح اور کوئی علامت بتائے گا جس سے یہ علم ہو سکے گا کہ تھیلی اس کی ہے یا نہیں اور جب تمہیں اس کا مالک مل جائے تو وہ تھیلی یامال اس کے حوالے کر دو۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! اگر اونٹ مل جائے تو کیا حکم ہے۔آپ نے فرمایا تجھے اونٹ سے کیا؟ وہ آپ اپنی حفاظت کر لیتا ہے۔یہی قوموں کا حال ہے۔جو اونٹ بنتا ہے اس کو کوئی پکڑ نہیں سکتا مگر وہ جنہوں نے اپنے آپ کو بھیڑوں اور بکریوں کی طرح بنالیا انہیں اگر انگریز نہ لیتے تو فرانسیسی لے لیتے۔فرانسیسی نہ لیتے تو پرتگیزی لے لیتے۔پرتگیزی نہ لیتے تو امریکن لے لیتے۔جو حالت ہندوستان کی تھی اسے دیکھتے ہوئے کون اسے چھوڑ سکتا تھا۔جہاں مالک کا پتہ ہی نہ لگتا ہو کہ کون ہے اور کہاں ہے اس ملک پر اگر کوئی غیر قوم قبضہ کر لے تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔پس یہ کہنا کہ ہندوستان پر انگریزوں نے کیوں قبضہ کر لیا بالکل غلط ہے۔ہندوستان پر انگریز قابض نہ ہوتے تو فرانسیسی قابض ہوتے۔فرانسیسی قابض نہ ہوتے تو پرتگیزی قابض ہوتے۔پرتگیزی قبضہ نہ کرتے تو ولندیز قبضہ کر لیتے۔ولندیز قبضہ نہ کرتے تو جر من قبضہ کر لیتے۔جر من قبضہ نہ کرتے تو امریکن قبضہ کر لیتے۔بہر حال کسی نہ کسی قوم نے ہندوستان پر ضرور قبضہ کرنا تھا۔پس اس میں انگریزوں کا کیا قصور ہے۔انہیں ایک گری پڑی چیز ملی اور اس کو انہوں نے اٹھالیا۔جب ہم نے خود اپنے آپ کو ایک زمین پر گری پڑی چیز کی طرح بنالیا، جب ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ کر لیا، جب اپنے اتحاد کو ہم نے مٹادیا، جب علم کو ہم نے کھو دیا، جب انسانیت کو ہم نے خیر باد کہہ دیا، جب انانیت کو ہم نے فنا کر دیا، جب تک نیک اخلاق اور حکومت کے قابل