خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 248

خطبات محمود 248 * 1943 سر انجام کے لئے کچھ نوجوان سیکرٹری (چالیس سال کے اوپر کے مگر زیادہ عمر کے نہ ہوں) مقرر کریں جن کے ہاتھ پاؤں میں طاقت ہو اور وہ دوڑنے بھاگنے کا کام آسانی سے کر سکیں تاکہ ان کے کاموں میں سستی اور غفلت کے آثار پیدا نہ ہوں۔میں سمجھتا ہوں اگر وہ چالیس سال سے پچپن سال کی عمر تک کے لوگوں پر نظر دوڑاتے تو انہیں ضرور اس عمر کے لوگوں میں سے ایسے لوگ مل جاتے جن کے ہاتھ پاؤں بھی ویسے ہی چلتے جیسے ان کے دماغ چلتے ہیں۔مگر انہوں نے اس طرف توجہ نہ کی اور صرف انہی کو سیکرٹری مقرر کر دیا جن کا نام میں نے ایک دفعہ لیا تھا۔حالانکہ ہر سیکرٹری کے ساتھ انہیں ایسے آدمی لگانے چاہیئے تھے جو اپنی عمر کے لحاظ سے گو خدام الاحمدیہ میں شامل نہ ہو سکتے تھے مگر اپنے اندر نوجوانوں کی سی ہمت اور طاقت رکھتے۔دوڑنے بھاگنے کی قوت ان میں موجود ہوتی۔محنت و مشقت کے کام وہ بآسانی کر سکتے۔لوگوں کو بار بار جگاتے اور بار بار انہیں بیدار کرنے کی کوشش کرتے۔اگر اب بھی وہ ایسا کریں اور جوان ہمت انصار اللہ کو سیکر ٹریوں کے نائب مقرر کر دیں تو میں امید کرتا ہوں کہ ان کے اندر وہ بیداری پیدا ہو سکتی ہے جس بیداری کو پیدا کرنے کے بغیر محض نام کا انصار اللہ ہونا کوئی معنے نہیں رکھتا۔یہ ایک الہی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے جب اس کے جسمانی قوی تو نشو و نما پاتے ہیں مگر اس کے دماغی قوی ابھی پردہ میں ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہتا کہ ان میں انحطاط واقع ہو جاتا ہے۔انحطاط نہیں بلکہ قوائے دماغیہ ایک پردہ کے اندر رہتے ہیں۔یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جو پچیس سال سے چالیس سال تک کی عمر کا ہے لیکن پھر اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آتا ہے جب جسم میں نشو وارتقاء کی طاقت تو نہیں رہتی مگر اسے جو کمال حاصل ہو چکا ہو تا ہے وہ قائم رہتا ہے۔جیسے کسی چیز میں جب ابال شروع ہو تو جب اس کا ابلنا بند ہو جائے مگر ابھی وہ اُبال بیٹھے نہیں۔جو کیفیت اس وقت ہوتی ہے وہی کیفیت چالیس سال سے اوپر عمر والوں کی ہوتی ہے کہ ان کا اُبال تو بند ہو جاتا ہے مگر ان کی بلندی میں کمی نہیں آتی۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ عام طور پر نبیوں کو اصلاح خلق کے لئے کھڑا کیا کرتا ہے۔گویا یہ زمانہ بلغ اشد کی کا زمانہ ہوتا ہے۔طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں مگر جو ابال کی صورت ہوتی ہے وہ مٹادی جاتی ہے۔