خطبات محمود (جلد 24) — Page 246
* 1943 246 خطبات محمود بچائیں۔حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ جس قدر چیونٹیاں چلتے ہوئے ملیں گی ان میں سے ساری تو مریں گی نہیں۔کچھ مریں گی اور زیادہ تریچ جائیں گی۔چاہے کسی کا چیونٹیوں سے سارا گھر بھرا ہوا ہو پھر بھی یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اس کے پاؤں کے نیچے سب کی سب چیونٹیاں آجائیں اور مر جائیں۔لازما کئی ہزار بلکہ کئی لاکھ چیونٹیاں بچ جائیں گی۔اب اگر اسی قسم کے کاموں کو خدمتِ خلق قرار دے دیا جائے تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے بڑھ کر اور کس نے خدمتِ خلق کی ہے۔میں نے آج اتنے لاکھ چیونٹیوں کی جان بچائی ہے۔اگر اس رنگ کی خدمات شمار میں آنے لگ جائیں تو ہر شخص کی خدمات کی ایک بڑی بھاری فہرست روزانہ تیار ہو سکتی ہے اور وہ رپورٹ میں اپنا کام ظاہر کرنے کے لئے کافی سمجھی جاسکتی ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں اگر ہم گناہ گننے لگ جائیں تو ان گناہوں کی بھی ایک لمبی فہرست روزانہ تیار ہو سکتی ہے۔پس یہ رپورٹیں کچھ چیز نہیں۔اصل چیز وہ بیداری ہے جو ہر شخص کو نظر آجائے۔کسی شخص نے یہ کیا ہی لطیف مثل بنادی ہے جو آج ساری دنیا میں نقل کی جاتی ہے کہ مشک آنست که خود بوید نه که عطار بگوید مشک پہچاننے کے لئے اگر عطار کی تعریف کی ضرورت ہو اور وہ کہے کہ یہ مشک فلاں جگہ سے آیا ہے اس کا نافہ ایسا عمدہ ہے لیکن ناک میں خوشبو نہ آئے تو ایسے مشک کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔مشک تو وہی ہے کہ عطار چپ کر کے بیٹھ جائے اور خریدار مشک کی خوشبو سونگھ کر ہی بے تاب ہو جائے اور کہے کہ یہ مشک نکالو۔میں اسے خریدنا چاہتا ہوں۔یہ بڑا اعلیٰ منتک ہے۔تو اصل خوبی کام کی یہی ہوتی ہے۔اگر ایک غیر اور اجنبی شخص بھی آجائے تو اسے پتہ لگ جائے کہ یہاں کوئی فعال اور کام کرنے والی جماعت موجود ہے۔باقی کسی کا اپنی ہفتہ وار یاماہوار یا سالانہ رپورٹ شائع کر دینا کوئی بڑی بات نہیں۔اور نہ اس سے کام کے متعلق کوئی صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اگر ہم دنیا میں یہ اعلان کرنا شروع کر دیں کہ اس دنیا کے پر دہ پر ایک احمد یہ جماعت بھی موجود ہے تو یہ اعلان بالکل مضحکہ خیز ہو گا لیکن اگر جہاں جہاں بھی ہماری جماعتیں موجود ہیں وہ اپنے وجود کو نمایاں کرناشروع کر دیں۔یہاں تک کہ ہر شخص کہے کہ ہمارے شہر میں ایک عجیب جماعت پیدا ہو گئی ہے اس کے افراد لوگوں کو تبلیغیں کرتے ہیں، تعلیمیہ میں دیتے ہیں،