خطبات محمود (جلد 24) — Page 230
$1943 230 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمائے۔یہ طریق استدلال بالا ولی کے طور پر تو استعمال ہو سکتا ہے مگر یہ نہیں کہ کسی لفظ کے ایسے معنی کئے جائیں جو عام تعلیم ، لغت اور محاورہ کے خلاف ہوں۔ہاں جس لفظ کے متعلق تشریح کر دی جائے اس کے وہ معنی لئے جائیں گے جو اس تشریح کے مطابق ہوں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نبی کی یہ تشریح فرما دی ہے کہ من نیستم رسول نیاورده ام کتاب یعنی میں ایسا رسول نہیں ہوں جو نئی شریعت لایا ہوں۔اس تشریح کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ نبی کا لفظ اس زمانہ میں نئی شریعت لانے والے کے متعلق بولا جاتا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے نبی نہ تھے اور ساری عمر آپ نے ایسا نبی ہونے سے انکار کیا۔چونکہ یہ مفہوم اس زمانہ کے محاورہ کے خلاف تھا اس لئے آپ نے اس کی تشریح فرما دی۔تو نبی جس بات کی اصلاح کریں یا جسے کسی ضرورت کے ماتحت بدلیں اس کی ساتھ ہی تشریح کر دیتے ہیں۔جیسا کہ نبی کے لفظ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی۔تو الا بلسان قومہ کے اس مفہوم کے ساتھ پرانی الہامی کتابوں کے سمجھنے میں بڑی آسانی پیدا ہو گئی۔حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت عیسی اور دوسرے انبیاء کا جو کلام موجود ہے۔اگر ان کے زمانوں کے شاعروں، مصنفوں اور زبان دانوں کی کتابیں دیکھیں تو بآسانی حل ہو جاتا ہے اور معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کی فلاں بات کا مفہوم کیا ہے۔پس و ما اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہ دوسری کتابوں اور دوسرے مذاہب کے پر کھنے کا ایک بہت اعلیٰ معیار ہے۔مَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ نبی اس زبان میں بات کرتا ہے جسے اس زمانہ کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کے لوگوں کی جو عقلی، علمی اور ذہنی حالت ہوتی ہے اس کے مطابق نبی کلام کرتا ہے۔ہر زمانہ میں لوگوں کی علمی اور عقلی حالت بدلتی رہتی ہے۔باقی نبیوں کے لئے تو اس میں کوئی مشکل نہ تھی کیونکہ ان کا کلام اسی زمانہ کے لئے ہوتا تھا جس میں نبی مبعوث کئے جاتے تھے اور اس زمانہ کے