خطبات محمود (جلد 24) — Page 190
$1943 190 خطبات محمود تبدیلی کی اطلاع آجاتی ہے۔دوسرا نیا مجسٹریٹ آتا ہے ، وہ اس کا ہمدرد ہوتا ہے اور فیصلہ اس کے موافق ہو جاتا ہے۔تو اب نہ تبدیلی اس کے اختیار میں تھی اور نہ ہی اس نے کوئی کوشش کی مگر نتیجہ اس کی امید کے خلاف اس کے حق میں نکل آیا۔اسی طرح ایک دکاندار ہے وہ کوئی چیز بارہ آنے یا دس آنے کو فروخت کرتا ہے مگر جب اس کی چیز پرانی ہوتی یا خراب ہونے لگی ہے تو وہ گاہک کو کہتا ہے اچھالے جاؤ آٹھ آنے ہی دے دو۔مگر گاہک اس قیمت پر بھی نہیں لیتا مگر اچانک جنگ شروع ہو جاتی ہے۔اب دکاندار اسی چیز کو دو تین بلکہ چار روپے پر بھی نہیں دیتا اور پھولا نہیں سماتا۔کہتا ہے ابھی اور مہنگی ہو گی۔دیکھو لڑائی اس کے اختیار میں نہ تھی جس کی وجہ سے چیزوں کی قیمت اتنی بڑھ گئی۔پس بسا اوقات انسان ناامید ہوتا ہے مگر امید کے سامان ہو جاتے ہیں۔اسی لئے سورۃ فاتحہ میں کہا گیا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ 1 یعنی جزا سزا کا نتیجہ اسی کے اختیار میں ہے۔سنکھیا ایک نہ بدلنے والی شے ہے مگر انسانی اعمال کا نتیجہ بدلنے والی چیز ہے۔تم نے دیکھا ہو گا کہ بسا اوقات ایک آدمی دوسرے سے دل لگی کرتا ہے مگر دوسرا اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔اور بسا اوقات ایک آدمی دوسرے کو گالی دیتا ہے مگر وہ ہنس چھوڑتا ہے اور بعض اوقات انسان دوسرے سے پیار کرتا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ جا پرے ہٹ۔تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر سے نئے تغیرات اور نئی حالتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔وہ نہیں جانتا کہ اس کے عمل کا نتیجہ کیا نکلے گا۔اسی لئے فرماتا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ جزا سزا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔بعض دفعہ انسان تدبیر کرتا ہے مگر تقدیر پر نظر نہیں رکھتا۔بعض اوقات تقدیر پر نظر رکھتا ہے تو تدبیر کو بھول جاتا ہے مگر یہ دونوں حالتیں غلط ہیں کیونکہ مَالِكِ يَوْمِ الدین سے پہلے رحمن اور رحیم کی صفات بیان ہوئی ہیں۔رحمن کے معنی ہیں ہم جزا سزا دیتے ہیں۔رحیم کے معنی ہیں ہم اچھے اور بُرے نتائج نکالتے ہیں۔رحمانیت کہتی ہے کہ کوشش کرو اور تدبیر سے کام لو۔رحیمیت کہتی ہے کہ بے شک کوشش کرو مگر نظر خدا پر رکھو۔نتیجہ اسی نے نکالنا ہے۔تو مومن کو دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔یہ نہ ہو کہ کبھی تدبیر کا پہلولے اور تقدیر کے پہلو کو بھول جائے اور کبھی تقدیر کو لے تو تدبیر کے پہلو کو بھول جائے۔وہ کوشش کرے مگر مغرور نہ ہو کہ میں نے تدبیر کرلی۔بلکہ تقدیر کو بھی مد نظر رکھے۔آخر نتیجہ اللہ تعالیٰ