خطبات محمود (جلد 24) — Page 175
خطبات محمود 175 $1943 مٹا دیں اور ایسے رنگ میں مٹائیں کہ جب کوئی غریب آدمی کسی امیر کے کمرے میں داخل ہو تو اس غریب کا وہاں آنا اس پر گراں نہ گزرے بلکہ اس کا دل خوش ہو کہ وہ اپنے ایک بھائی سے مل رہا ہے۔لیکن اگر اس بعد کو دور نہیں کیا جائے گا، اگر امیر اور غریب میں امتیاز قائم رہے گا تو جب تمہارے گھر میں پندرہ سو ، دو ہزار یا تین ہزار کے قیمتی قالین بچھے ہوئے ہوں گے اور ایک غریب تم سے ملنے کے لئے آئے گا تو گو تم اسے تکلف سے کہہ دو گے کہ وہ قالین پر بیٹھ جائے مگر اس کا دل اندر سے دھڑک رہا ہو گا کہ کہیں میرے بیٹھنے کی وجہ سے قالین میلا نہ ہو جائے اور یہ امیر دل میں ناراض نہ ہو جائے اور تم اپنے دل میں اس پر اور سب غرباء پر لعنتیں کر رہے ہو گے کہ یہ بد تہذیب اس امر کا بھی خیال نہیں کرتے کہ اپنے میلے کپڑوں اور میلے پاؤں سے ہمارے گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور خدا کے فرشتے یہ کہہ رہے ہوں گے کہ لعنت ہو ایسے قالینوں پر اور لعنت ہو ان قالین والوں پر جو خدا کے بندوں میں دوئی ڈال رہے ہیں۔پس تعیش کے سامانوں کو مٹاؤ ، اپنی زندگیوں کو سادہ بناؤ اور اس امر کو سمجھ لو کہ سادہ زندگی دلوں میں محبت پیدا کرتی اور فسادوں اور لڑائیوں کو دنیا سے دور کرتی ہے۔میں پھر کہتا ہوں اپنی زندگیوں کو سادہ بناؤ اور اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرو تا کہ دنیا تمہارے لئے بھی جنت بن جائے اور تمہارے دوسرے بھائیوں کے لئے بھی جنت بن جائے۔اے میرے رب تو ہمیں اس کی توفیق دے۔“ (الفضل 23 مئی 1943ء) 1: المؤمنون:4 2: الاعراف: 32 3 مدهل: ایک اناج جس کے دانے باریک ہوتے ہیں ( پنجابی اردو لغت صفحہ 1401 مطبوعہ لاہور 1989ء)