خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 144

$1943 144 خطبات محمود گناہوں کی معافی کا سامان پیدا کر لو اور ان مصیبت کے دنوں میں صبر کر کے اور قربانیوں میں پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر لو تاکہ پچھلے دس ہیں تیس چالیس یا پچاس سال کے گناہ معاف کر کے اللہ تعالیٰ تمہارے دل کے تختہ کو بالکل صاف کر دے اور آئندہ اس پر نیکیاں ہی نیکیاں لکھنے کا تمہیں موقع دے۔گندم کی فراہمی اور اس کے لئے انتظام یہ سب عارضی چیزیں ہیں۔ہم اگر ان امور میں حصہ لیتے ہیں تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے علاوہ جماعت کی دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنا بھی خلفاء کے ذمہ عائد کیا ہوا ہے۔ورنہ ہماری اصل غرض یہی ہے کہ قلوب میں صفائی پیدا ہو اور میں نے بتایا ہے کہ قلوب میں صفائی اسی طرح پیدا ہو سکتی ہے کہ ہم اپنا فرض ادا کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔یہ خیال نہ رکھیں کہ دوسروں نے ہمارے حقوق کو کیوں ادا نہیں کیا۔جس دن ہم اپنا حق ادا کرنے لگ جائیں گے اور لوگوں کا شکوہ ترک کر دیں گے اس دن ہمارے قلوب کی آپ ہی آپ اصلاح ہو جائے گی۔دوسروں کا شکوہ کرنا اور یہ دیکھنا کہ انہوں نے اپنے حقوق کو ادا کیا ہے یا نہیں یہ ہر شخص کا کام نہیں۔یہ انہی کا کام ہے جنہیں خدا حکماً اس غرض کے لئے کھڑا کرتا ہے۔باقی لوگوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی اپنی فکر کریں۔جیسے کسی شاعر نے کہا ہے ع تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیر تو پس اصل نقطہ جس پر تمام امن کی بنیاد ہے یہی ہے کہ لوگ اپنے اپنے فرائض کو ادا کریں اور اس ذہنیت کو بدل ڈالیں کہ دوسروں کی نگرانی کی جائے اور اپنے نفس کی خبر نہ لی جائے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے اپنے فرائض کو ادا کریں۔اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور اپنا وقت بجائے دوسروں پر نکتہ چینی کرنے کے اپنے نفس کی اصلاح میں صرف کریں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کریں- اَللّهُمَّ اُمِيْنَ خطبہ ثانیہ میں فرمایا:۔66 ایک شخص نے لکھا ہے کہ کارکنوں کو جو کٹوتیاں ملیں گی وہ سال بھر کا غلہ خریدنے کے لئے کافی نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے کارکن جن کی کٹوتیاں غلہ کے لئے کافی نہ ہوں