خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 107

$1943 107 خطبات محمود پس اس وقت دنیا میں جو حالات و واقعات رونما ہو رہے ہیں جب تک کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اہمیت کو نہ سمجھے ان سے متاثر نہیں ہو سکتا اور صحیح نتائج بھی اخذ نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے جس کے ذریعہ وہ اپنے فضل و کرم سے وقتاً فوقتاً اطلاع دیتا رہتا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اس وقت جو حالات رونما ہو رہے ہیں وہ احمدیت کے نقطہ نگاہ سے بہت اہم ہیں۔اسی سفر میں میں نے ایک رویا دیکھا ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ جنگ اب کئی شکلیں تبدیل کرنے والی ہے۔جن میں سے بعض شکلیں اسلام کے لئے بہت خطرناک ہوں گی۔اسی قسم کے اور رویا میں نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر میں ان کو دو الگ الگ واقعات نہ سمجھتا تھا لیکن اس رؤیا نے بتا دیا ہے کہ وہ ایک ہی واقعہ کی دو شکلیں نہیں بلکہ آگے پیچھے آنے والے الگ الگ واقعات ہیں۔اس تازہ رؤیا کو میں عام طور پر بیان نہیں کر سکتا اور شاید اس کا بیان کرنا حکومت کی مصلحت کے بھی خلاف ہو۔اشارہ صرف اتنا بتاتاہوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ یورپ کی دو طاقتیں ہیں اور ایک ایشیائی طاقت ہے۔ایشیائی طاقت کا سردار ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ اس کے ملکی معاملات کے بارہ میں میرا مشورہ بھی مفید ہو سکتا ہے یا شاید اسے احمدیت سے کوئی دلچسپی ہے۔وہ اپنے ملک کے حالات بیان کر کے مجھ سے مشورہ پوچھتا ہے کہ ان حالات میں ہم کیا کریں۔میں نے نے اسے کوئی مشورہ دیا ہے مگر یہ یاد نہیں کہ اس نے کیا پوچھا اور میں نے کیا بتایا۔صرف اتنا احساس ہے کہ اس نے کوئی مشورہ پوچھا ہے اور میں نے دیا ہے۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ ان دو یورپین حکومتوں میں سے ایک کے نمائندہ اور اس ایشیائی حکومت کے سردار کے درمیان کمیٹی ہوئی ہے۔دونوں جمع ہوئے ہیں کہ صورتِ حالات پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا کارروائی کرنی چاہیئے۔میں بھی وہاں گیا ہوں اور پرے ہٹ کر کھڑا ہوں۔اس مغربی حکومت کا نمائندہ ایک کھلے میدان میں کسی پتھر پر یا ایسی کرسی یا کوچ پر جس کی پشت نہیں بیٹھا ہے اور ایشیائی حکومت کا سر دار کھڑا ہے اور اس سے بات کرتا ہے کہ ہمارے ملک کے یہ حالات ہیں۔ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اجتماع کسی معاہدہ کی بات چیت کے لئے یا آئندہ کے لئے