خطبات محمود (جلد 24) — Page 106
$1943 106 خطبات محمود م الله سة جن کے سامنے نہ کوئی پروگرام ہو اور نہ جن کا کوئی مشن ہو سخت بے وقوفی کی بات ہے۔اور یہ خیال کرنا بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے یہ خیال کر لیا جائے کہ نبی اس لئے آیا ہے کہ پاخانہ صاف کر دے۔بلکہ میرے نزدیک تو پاخانہ صاف کرنے کا کام اس کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔پس یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اس غرض کے لئے نبی آئیں۔یہ خدا تعالیٰ کی ہتک ہے اور جو احمدی ایسا خیال کرتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کی اور آپ کی دونوں کی سخت ہتک کرتا ہے کیونکہ جو ایسا سمجھتا ہے وہ گویا یہ سمجھتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللہ اللہ تعالیٰ بھی اور اس کا رسول بھی بے وقوف ہے کہ جو ایک نبی سے ایسا کام کرانا چاہتے ہیں جس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ، رسول کریم صلی علیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کرنے والا وہی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ آپ کی بعثت کی غرض یہ ہے کہ دنیا کے خیالات، عقائد اور مذاہب میں ایسا انقلاب پیدا کر دیا جائے کہ جسے پیدا کرنا اسلام کا مقصد ہے۔اور یہی ایک ایسی چیز ہے جسے تسلیم کر کے ہم دنیا کے سامنے گرد نہیں بلند کر سکتے۔اور کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے مقصد کولے کر کھڑے ہوئے ہیں جو دنیا میں اور کسی کا نہیں۔ایسا ہی احمدی جو ان باتوں پر غور کرتا ہے، ان حالات اور واقعات سے متاثر ہو سکتا ہے جو دنیا میں رونما ہوتے رہے ہیں خواہ وہ میدان جنگ سے دس ہزار میل کے فاصلہ پر کیوں نہ ہو خواہ وہ ہمالیہ کی چوٹی پر سادھو بن کر کیوں نہ بیٹھا ہوا ہو اتنے فاصلہ پر بھی ان حالات کے اس پر ایسے اثرات ہو رہے ہوں گے جو اس سپاہی پر بھی نہ ہوں گے جو گو میدانِ جنگ میں ہے مگر صرف اتناہی جانتا ہے کہ انگریز دس قدم بڑھے ہیں اور جرمن ہیں قدم پیچھے ہٹے ہیں لیکن جو ان باتوں کو سمجھتا ہے جو میں نے بیان کی ہیں وہ خواہ میدانِ جنگ سے کتنی دور کیوں نہ ہو وہ خوب سمجھتا ہے کہ ہر شر انگیز طاقت کے بڑھنے سے اسلام پیچھے ہٹتا اور اس کے پیچھے ہٹنے سے اسلام آگے بڑھتا ہے۔باوجود ہمالیہ کی چوٹی پر بیٹھا ہونے کے ہر شرارت کے آگے بڑھنے پر اس کا دل اس سپاہی کی نسبت بہت زیادہ زور کے ساتھ دھڑکتا ہے جو گو میدانِ جنگ میں ہے مگر حقیقت سے آگاہ نہیں اور ہمالیہ کی چوٹی پر بیٹھے ہونے کے باوجود اس کا دل زیادہ خوش ہوتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کفر کی طاقت پیچھے ہٹی ہے۔