خطبات محمود (جلد 24) — Page 101
خطبات محمود 101 $1943 وہ جنگ کا پیغامبر ہے۔2 گویا دو متضاد باتیں جمع کر دیں۔ایک طرف اسے صلح کا عظیم الشان پیغام دیا اور دوسری طرف جنگ کا۔گو زمانہ کے تقدم و تأخر سے یہ دونوں باتیں جمع ہو سکتی ہیں مگر اس کی مثال پہلے کوئی نہیں ملتی کہ ایک نبی کے دو نام ہوں۔ایک تو صلح پر دلالت کرے اور دوسرا عظیم الشان جنگوں کی خبر دینے والا ہو۔ایک ہی زمانہ میں دو روئیں زور کی جاری ہوں۔ایک طرف تو جنگ، جنگ، جنگ کی آوازیں آرہی ہوں اور دوسری طرف صلح، صلح، صلح کی۔دنیا اس سے پہلے کبھی اس طرح دو کیمپوں میں تقسیم نہیں ہوئی۔ایک کیمپ تو جنگ کی تائید میں اور دوسر ا صلح کی تائید میں ہے۔پہلے بے شک کبھی کبھی سکولوں میں طلباء اس قسم کی بحثیں کیا کرتے تھے کہ تلوار اچھی ہے یا قلم مگر آج تمام دنیا کے فلاسفر دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ایک زور دے رہا ہے کہ صلح کے اصول مقرر کرنے چاہئیں اور دوسرا یہ کہہ رہا ہے کہ اس زمانہ کے معاملات صلح سے ہر گز طے نہیں ہو سکتے۔یہ صرف تلوار سے طے ہوں گے۔یہ بھی تضاد کی ہی حالت ہے اور تضاد کی حالت انسان کو ہمیشہ حیران کر دیتی ہے۔ایک جیسے حالات اگر ہوں تو انسان حیران نہیں ہوتا۔دو قسم کے ہوں اور امتیاز مشکل ہو جائے تو انسان ضرور حیران ہو جاتا ہے۔ایک شخص کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارا دوست ہے ، اس سے معاملہ کرتے وقت ہم حیران نہیں ہوں گے۔ایک اور کے متعلق پتہ ہے کہ وہ دشمن ہے اس سے معاملہ کرتے وقت بھی ہم حیران نہ ہوں گے۔مگر ایک شخص ہے جس کے متعلق دس آدمی ہمارے پاس آکر بیان کرتے ہیں کہ وہ تمہارا بڑا دوست ہے، ایسا دوست کہ شاید کوئی دوسرا نہ ہو گا مگر دوسرے دس آدمی آکر کہتے ہیں کہ وہ تمہارا اتناسخت دشمن ہے، سخت مخالف اور کینہ ور ہے۔اس حالت میں ہم حیران ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ متضاد باتیں ہیں۔تو اس زمانہ میں اس قدر متضاد باتیں پیدا ہو چکی ہیں کہ حیرت کا سامان اتنی کثرت سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔مگر یہ سارے سامان جیسا کہ قرآن کریم، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور ان خبروں سے جو اللہ تعالیٰ بعد میں آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کو دیتا رہا ہے ،معلوم ہوتا ہے جماعت احمدیہ کی ترقی کی تکمیل اور اس کے غلبہ کے لئے کئے جارہے ہیں اور جب ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ کے حالات ہماری قوت سے باہر ہیں اور دوسری طرف