خطبات محمود (جلد 24) — Page 99
$1943 99 خطبات محمود وہ بھی اپنی دولت اور ذخائر آج دنیا کی منڈیوں میں بھیج رہے ہیں اور دنیا کی چیزیں وہاں پہنچ رہی ہیں۔پس کہنا پڑتا ہے کہ اقتصادی لحاظ سے بھی یہ زمانہ بالکل نرالا ہے۔پھر اگر علمی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو بھی یہ زمانہ بالکل عجیب ہے۔پہلے زمانہ میں علم صرف چند لوگوں تک محدود ہو تا تھا۔اسلام نے چونکہ علم حاصل کرنے کی تاکید کی ہے اس لئے اسلامی ممالک میں پڑھے لکھے لوگوں کی کثرت تھی باقی دنیا میں تعلیم بالکل نہ تھی۔ہر جگہ چند ایک لوگ ہی لکھنے پڑھنے سے واقف تھے بلکہ لوگ لکھنا پڑھنا ضروری نہ سمجھتے تھے۔عرب کو دیکھ لو ، رسول کریم صلی ا یکم سے پہلے کے زمانہ میں اہل عرب لکھنا پڑھنا ہتک سمجھتے تھے۔امراء میں سے چند لوگ لکھنا پڑھنا سیکھتے تھے۔تاسیاسی و تجارتی معاہدات اور خط وکتابت کی جاسکے۔اور آٹھ دس آدمیوں کو مقرر کر دیا جاتا تھا کہ وہ لکھنا پڑھنا سیکھ لیں باقی اسے ہتک سمجھتے تھے اور اس بات پر فخر کیا جاتا تھا کہ ہم لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔مگر آج علم حاصل کرنے کی خواہش اتنی ترقی کر گئی ہے لوگ اس کے لئے قیمتی سے قیمتی چیز قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ہماری جماعت کا ایک خاندان بہت مخلص تھا اور اسے لڑکوں لڑکیوں کو تعلیم دلانے کا اتنا شوق تھا کہ بعض دفعہ مجھے کہنا پڑتا تھا کہ آپ لوگوں نے کتابی علم کو اتنی وقعت دے رکھی ہے کہ اس کے لئے آپ لوگوں کو اگر عیسائی بھی ہونا پڑے تو شاید ہو جاؤ گے۔میری ان تنبیہات سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا اور گو عیسائی نہیں ہوئے مگر پیغامی ہو گئے ہیں۔ان کی لڑکیاں جب زیادہ پڑھ گئیں تو انہوں نے غیر احمدیوں سے ان کے رشتے کئے اور جب ہم نے اس پر گرفت کی تو ان کے لئے سوائے اس کے کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا کہ پیغامیوں سے جاملیں۔تو آج علم نہ صرف یہ کہ دنیا میں پھیل گیا ہے بلکہ اسے حاصل کرنے کا شوق اتنا بڑھ گیا ہے کہ کوئی چیز اس سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھی جاتی حتی کہ بعض لوگ مذہب کو بھی اس کی خاطر چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔یہ میرا آج کا مضمون نہیں مگر میں ضمناً ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ ابھی ہماری جماعت میں بعض اور بھی ایسے خاندان ہیں کہ جو دنیوی علم یا نوکری کے لئے اپنی لڑکیوں کو پڑھانا اتنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ وہ خواہ بے پردہ ہو جائیں، خواہ وہ غیر احمدیوں سے شادی کر لیں