خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 98

*1943 98 خطبات محمود میں ہی مشورہ کر لیتے تھے۔اور پھر کہا یہ جاتا تھا کہ ہم نے دنیا کے مسائل کو حل کر لیا۔حالانکہ نہ انہیں باقی دنیا سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی باقی دنیا کو ان سے۔جب ایران بر سر اقتدار تھا تو ایسے مشوروں میں ہندوستان کے کنارہ پر رہنے والے لوگوں میں سے کسی کو شامل کر لیا جاتا ہو گا یا بخاراو سمر قند کے رہنے والوں کو یا عراق سے کوئی نمائندہ آجاتا ہو گا اور خیال کر لیا جاتا تھا کہ دنیا کی سیاسی گتھیاں اس مجلس میں سلجھا دی گئی ہیں۔حالانکہ دنیا کے بہت قلیل حصہ کا اس سے تعلق ہو تا تھا۔اور جب مصر میں مرکز سیاست تھا تو خود مصر کے علاوہ اس کے ارد گرد کے ممالک مثلاً شام، سوڈان ، ابی سینیا وغیرہ کو مشورہ میں بلا لیا جاتا تھا۔اور جب مشورہ کر کے کوئی بات طے کر لی جاتی تو یہ سمجھا جاتا کہ ساری دنیا اس مشورہ میں شامل ہوئی ہے۔وہ زمانہ آج کی طرح بالکل نہ تھا۔جب قریباً ہر ملک کے نمائندے سیاسی مسائل کے سلجھانے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔اس قسم کی مثال کہ تمام دنیا کے لوگ جمع ہوئے ہوں پہلے نہیں ملتی۔اقتصادی لحاظ سے بھی یہ زمانہ بالکل نرالا ہے۔جس طرح آج ساری کی ساری دنیا تجارت میں شریک ہے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔پہلے زمانہ میں تو کئی ممالک کی دولت کا دوسروں کو علم ہی نہ تھا مگر آج چپہ چپہ کے حالات معلوم ہو چکے ہیں اور دنیا کی دولت کو بڑھانے کے لئے ہر گوشہ عالم اپنا حصہ دے رہا ہے۔امریکہ گندم، تیل اور دوسری چیزوں کے ذخائر دنیا کے لئے پیش کر رہا ہے۔جنوبی امریکہ اپنی لکڑیاں اور غلے وغیرہ دنیا کو مہیا کر رہا ہے۔اسی طرح وہ ممالک جو پہلے معلوم بھی نہ تھے برابر حصہ لے رہے ہیں۔جاپان، چین ، فار موسا اور فلپائن وغیرہ جنہیں پہلے کوئی جانتا بھی نہ تھا حتی کہ سائبیریا کے برفانی علاقے بھی جو برف کی وجہ سے بالکل جم جاتے ہیں وہ بھی اپنی اقتصادی دولت دنیا کے آگے رکھ رہے ہیں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی طرح افریقہ کے اندر جو ذخائر ہیں وہ باہر نکل رہے ہیں اور اس کا ایک ایک حصہ یا تو خود متمدن ہو چکا ہے اور یا متمدن ممالک کے ماتحت ہے۔یورپ کے وحشی لوگ جو پہلے کپڑے پہنا بھی نہ جانتے تھے آج تہذیب و تمدن کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں اور صرف اپنے آپ کو ہی مہذب و متمدن قرار دیتے ہیں۔قطب شمالی اور قطب جنوبی کے جزائر کہ جہاں پہلے کوئی جہاز نہ پہنچ سکتا تھا اور جو پہنچنے کی کوشش کر تابرفانی تودوں سے ٹکراکر غرق ہو جاتا تھا۔