خطبات محمود (جلد 24) — Page 9
1943ء 9 خطبات محمود ہم ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ یہ اجتماع کوئی معمولی اجتماع ہے۔ میں نے آج ایک رویا بھی دیکھا ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں وہ اسی سلسلہ میں ہے۔ چنانچہ میں اس کو بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں۔ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں یکدم قادیان سے کسی سفر کے ارادہ سے چل پڑا ہوں۔ چند آدمی میرے ساتھ ہیں مگر ایسے نہیں جو سیکرٹری وغیرہ کے طور پر کام کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگ ساتھ ہیں جو عام طور پر جب کسی سفر پر جانا ہو تو ساتھ نہیں ہوتے۔ میرا ارادہ کسی لمبے سفر کا معلوم ہوتا ہے مگر قادیان سے رخصت ہونا یاد نہیں۔ بس ارادہ کیا اور ارادہ کرتے ہی چل پڑے۔ کچھ دور جا کر ہم ایک جگہ ٹھہر گئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور ملک ہے ۔ اور جیسے راستہ میں پڑاؤ کیا جاتا ہے اسی طرح ہم نے بھی وہاں پڑاؤ کیا ہے۔ وہاں کسی کے مکان کے سامنے ایک چبوترہ سا بنا ہوا ہے۔ وہ چبوترہ برابر ایک سا نہیں چلا جاتا بلکہ کچھ حصہ کم چوڑا ہے، کچھ اس سے کم چوڑا ہے اور کچھ حصہ زیادہ چوڑا ہے۔ عام طور پر جیسے شہروں میں لوگ بیٹھنے کے لئے چبوترے بنا لیتے ہیں اسی طرح وہ بھی ایک چبوترہ بنا ہوا ہے مگر اس کا جو اگلا حصہ ہے وہ چوڑا کم ہے اور لمبا زیادہ ہے مگر اس کے پیچھے جو جگہ ہے وہ اگلے حصہ سے کچھ چوڑی ہے۔ اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد ابراہیم صاحب جو بقا پوری کہلاتے ہیں وہاں جماعت میں بطور مبلغ کے کام کرتے ہیں۔ میں مولوی صاحب پر کسی قدر خفا ہوتا ہوں کہ آپ کی طبیعت میں عجیب لا ابالی پن ہے کہ آپ جماعت کے دوستوں کو مجھ سے ملاتے نہیں اور میرے ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ اس طرف آپ کی ذرا بھی توجہ نہیں کہ جماعت کے دوستوں کو مجھ سے ملائیں اور میری ان سے واقفیت پیدا کرائیں۔ انہی باتوں میں نماز کا وقت آگیا اور میں وہاں نماز کے لیے دو تین آدمیوں کو کھڑا دیکھتا ہوں۔ اس وقت میں ان سے کہتا ہوں کہ جماعت کے امیر کہاں ہیں، پریزیڈنٹ کہاں ہیں اور کیوں ایسی بے توجہی سے کام لیا گیا ہے کہ ان کو اس بات کا موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ یہاں آئیں اور مجھ سے ملیں۔ مولوی صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں وہ اس وجہ سے خفا ہیں کہ میں اولیس کی اولاد میں سے ہوں اور مجھے ملاقات میں مقدم نہیں کیا گیا۔ میں نے کہا وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ آپ کا فرض تھا