خطبات محمود (جلد 24) — Page 88
$1943 88 خطبات محمود جانا ہوتا ہے تو وہ زمیندار ذرا سی بات پر اتنا اچھلتا ہے کہ گویا زمین و آسمان کی طاقت اسی کے پاس ہے۔خدا تعالیٰ کو تو حقیقی حکومت حاصل ہے مگر اس کے باوجو د وہ بندوں پر حکومت نہیں جتا تا بلکہ ناز اٹھا رہا ہے اور محبت کے ساتھ اپنے بندوں سے احسان کر رہا ہے۔کہیں بندہ روٹھا ہوا ہے اور خدا اس کو منا رہا ہے۔حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی لکھتے ہیں کہ لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ میں اعلیٰ کپڑے پہنتا ہوں (کیونکہ ان کے متعلق آتا ہے کہ وہ بہت قیمتی کپڑا پہنتے تھے جو آجکل کی قیمت کے لحاظ سے 1/4 2 ہزار روپیہ فی گز کا کپڑا بنتا ہے) اسی طرح شاہ ولی اللہ صاحب ( جو دہلی کے ایک بہت بڑے بزرگ تھے) ان کے متعلق بھی آتا ہے کہ ان کا لباس نہایت اعلیٰ ہو تا تھا اور وہ روزانہ نیا جوڑا پہنتے تھے۔جب اس پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ قیمتی کپڑے پہنتا اور قیمتی کھانے کھاتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تو کبھی کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبد القادر اتجھے میری ذات کی قسم تو کپڑا پہن۔اور میں کوئی کھانا نہیں کھاتا جب تک مجھے خدا تعالیٰ نہیں کہتا کہ اے عبد القادر ! تجھے میری ذات کی قسم تو یہ کھانا کھا۔اب دیکھو کہ کہاں خدا تعالیٰ کی ذات اور کہاں عبد القادر جیلانی۔دونوں میں اتنی بھی تو نسبت نہیں جتنی ایک انسان اور چیونٹی میں ہوتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ اپنی محبت کی وجہ سے بندے کی منتیں کر کے اسے مناتا ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ سلوک بندے کو شرم دلانے کے لئے ہے کہ خدا تعالیٰ تو عرش پر ہو کر یوں منتیں کرتا ہے مگر یہ اتنا چھوٹا ہو کر کبر و غرور میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یوں کر دوں گا اور میں دُوں کر دوں گا۔مجھے یہاں کے کارکنوں کے متعلق رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں جن کی تحقیق کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ گوان میں سے بعض جھوٹی رپورٹیں بھی ہوتی ہیں مگر بعض دفعہ سچی بھی ہوتی ہیں۔اور وہ رپورٹیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ایک افسر اپنے ماتحتوں سے کہتا ہے کہ میں تیر اپانی بند کر دوں گا۔میں تیری فصل سکھا دوں گا۔حالانکہ وہ صرف کارندہ ہو تا ہے، مالک بھی نہیں ہو تا۔مگر پھر بھی وہ اس قدر دعوے کرتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔گویا ادھر تو وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں خدا تعالیٰ کے سامنے کہتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں، میں تو آپ کا غلام ہوں، میں تو ذلیل ہوں،