خطبات محمود (جلد 24) — Page 87
$1943 87 خطبات محمود عدالت توجہ کے قابل نہیں سمجھے گی۔وہ تمہیں مفت نہیں مل سکتا۔وہ تم خریدنا چاہو تو پیسے دے کر ہی ملے مگر اب یہ تمہارے ہاتھ ، پاؤں، ناک، کان وغیر ہ خدا کی رحمانیت کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے۔اس ثبوت کی موجودگی میں اگر بندہ خدا کو الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نہ بھی کہے تب بھی کوئی حرج نہیں بلکہ اگر ساری دنیا کہنے لگ جائے کہ رحمن کوئی نہیں تو اس کا یہ قول ہی خدا کی رحمانیت کی دلیل ہو گا کیونکہ جب کوئی شخص کہہ رہا ہو گا کہ کوئی خدا نہیں تو یہ کس زبان سے بول رہا ہو گا۔یہ زبان اس نے کہاں سے لی ہو گی۔یقیناً خدا نے اسے مفت دی ہے اور رحمن مفت دینے والے کو ہی کہتے ہیں۔پس اس کا تو خدا کو گالیاں دینا بھی خدا کی رحمانیت کا ثبوت ہو گا۔پھر بندہ کہتا ہے خدا ملِكِ يَوْمِ الدِین ہے۔اب اگر یہ کہتا تب بھی خد الملِكِ يَوْمِ الدین تھا اگر یہ نہ کہتا تب بھی وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تھا۔اس کے بعد کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔پس ساری سورۃ میں یہی دو فقرے اس نے اپنی طرف منسوب کئے ہیں۔ان سے پہلے وہ صداقت کا اظہار کرتا ہے اور ان کے بعد خدا سے کچھ مانگتا ہے کہ اے خدا مجھے کچھ دے دے۔لیکن در میان میں وہ دو دعوے کرتا ہے۔ایک تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا کا عبد ہوں اور کسی کا عبد نہیں لیکن اگر اس کا عمل دیکھو تو کتنے ہیں جو اس دعوے پر سچے طو پر عمل کرتے ہیں۔ہزاروں ہیں جو ایک طرف اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتے ہیں اور دوسری طرف چوریاں کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، غیبت کرتے ہیں اور ذرا ہاتھ میں طاقت آئے تو دوسرے کو کچھ چیز ہی نہیں سمجھتے۔وہ اپنے کمزور بھائی کو کہتا ہے کہ میں تھپڑ مار کر تیرے سارے دانت توڑ ڈالوں گا۔وہ نادان اتنا بھی نہیں جانتا کہ یہ زور اس کے ہاتھ میں کہاں سے آیا۔دولت آجائے تو وہ لوگوں کو کہتا ہے کہ میں تمہیں یوں ذلیل کر دوں گا، میں تمہیں سیدھا کر دوں گا۔چنانچہ دیکھ لو نبیوں کے مخالف کس گھمنڈ کے ساتھ نبیوں کو چیلنج دیتے تھے کہ باز آجاؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے۔ہمارے ملک میں بھی زمیندار اپنے کمزور ہمسایہ کو کہتے ہیں کہ ہم تمہارا پاخانہ بند کر دیں گے۔دیہات میں ٹیوں کا یا ان کی صفائی کرنے والوں کا انتظام تو ہوتا نہیں کھیتوں میں