خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 86

1943ء 86 خطبات محمود نے کہیں سے جن سے وہ دیکھتا ہے۔ غرضیکہ باقی سب ا سب اعضاء جن سے وہ کام لیتا ہے وہ اس ۔ خریدے نہیں بلکہ مفت ملے ہیں۔ اگر کوئی اس سے پوچھے کہ ایک مٹی کا ڈھکنا زیادہ قیمتی ہے یا ہاتھ تو کوئی پاگل ہی ہو گا جو یہ کہے گا کہ مٹی کے ڈھکنے کی قیمت زیادہ ہے۔ یقیناً ہر عقلمند یہی کہے گا کہ ہاتھ زیادہ قیمتی ہے۔ گورنمنٹ کے قانون میں بھی ایسا ہی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا ہاتھ کاٹ لے یا پاؤں یا ناک وغیرہ کاٹ لے تو گورنمنٹ اس کاٹنے والے کو قید کرتی ہے۔ اور اگر اتفاقی حادثہ سے مثلاً موٹر کی ٹھوکر وغیرہ سے کسی عضو کو نقصان پہنچ جائے تو جیسی اس مجروح کی حیثیت ہوتی ہے اس کے حسب حالات نقصان پہنچانے والے سے ہرجانہ دلایا جاتا ہے۔ بہر حال گورنمنٹ کے نزدیک بھی ہاتھ اور پیر کی قیمتیں ہیں جن کی وجہ سے بعض حالات میں زخمی کرنے والے کو قید میں ڈالا جاتا ہے اور اتفاقی حادثہ میں مجروح کی حیثیت کے مطابق بعض دفعہ ہزار بعض دفعہ دو ہزار بلکہ پچاس پچاس ہزار روپیہ تک ہر جانہ دلایا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ایک ڈاکٹر ہو جس کی آمد ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار ہو اور کوئی شخص اتفاقی حادثہ سے اس کا ہاتھ یا پاؤں توڑ دے تو اس ڈاکٹر کو ہزار دو ہزار روپے حرجانہ دلانا کافی نہیں ہو گا بلکہ اس کے گزارہ کے مطابق دلایا جائے گا۔ عدالت کہے گی کہ جبکہ یہ شخص بے کار ہو گیا تو اب یہ اپنے بیوی بچوں کو کس طرح کھلائے گا۔ اس لئے ایسی صورت میں وہ پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ روپے تک ہر جانہ دلا دیتی ہے۔ اب دیکھو کہ ا ، دیکھو کہ اس قدر قیمتی ہاتھ ہے جو اللہ ہاتھ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفت دیا ہے اس کے لئے اس پر کوئی قیمت خرچ نہیں کی ۔ وہ ایسا قیمتی ہے کہ اسے نقصان پہنچ جائے تو گورنمنٹیں بھی کسی کو ایک ہزار کسی کو دو ہزار کسی کو دس ہزار کسی کو میں ہزار کسی کو پچاس ہزار اور کسی کو لاکھ لاکھ روپے تک دلا دیتی ہیں۔ یعنی اگر اس کے مٹی کے ڈھکنے کو کوئی توڑ ڈالے اور پھر مالک جا کر عدالت میں دعویٰ کرے کہ فلاں شخص نے میر امٹی کا ڈھکنا توڑ دیا ہے تو اول تو کوئی وکیل ایسے مقدمہ کو لینے کے لئے تیار نہ ہو گا۔ اور اگر کوئی لالچ کے مارے لے بھی لے تو عدالت اس کی بیوقوفی پر مقدمہ خارج کر دے گی۔ غرض وہ ہاتھ جس کی قیمت ہزار دو ہزار یا لاکھ مقرر کی گئی تھی اس پر تم نے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا وہ تمہیں مفت ملا ہے مگر وہ ڈھکنا جس کے توڑے جانے پر پولیس کا چالان تو کجا تم خود بھی جاکر عدالت میں دعویٰ کرو تو