خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 52

1943ء 52 خطبات محمود ایک طرف گر رہی ہوں اور دوسری طرف اس کی نئی اور مضبوط دیواریں کھڑی کی جارہی ہوں اس محل کی دیواریں گرنے پر کسی دشمن کو کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ اگر ایک طرف اسلام کی کوئی دیوار گر رہی ہے تو دوسری طرف اس کی نئی اور مضبوط دیواریں خدا تعالیٰ کے فضل سے کھڑی کی جارہی ہیں۔ پس دشمن کے لئے خوشی کا کوئی موقع نہیں۔ بے شک یہ ایک کمزوری ہے اور ہم اس کمزوری کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ہمارے لئے یہ کمزوری کوئی نئی چیز نہیں۔ آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صلی علیم نے اس کی خبر دے دی تھی۔ اور آپ بتا چکے تھے کہ ایک زمانہ میں مسلمانوں کی کیا حالت ہو جائے گی۔ الله مجھے اس وقت ایک مرحوم دوست کا واقعہ یاد آگیا۔ میں ایک دفعہ دہلی میں گیا ہوا تھا۔ میری مرحومہ بیوی سارہ بیگم اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم نے امتحان پاس کیا تھا اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ امتحان کے پاس کرنے کے بعد میں تمہیں آگرہ اور دہلی وغیرہ کی سیر کراؤں گا۔ میں انہیں دہلی کا قلعہ دکھانے لے گیا۔ جب سیر کرتے کرتے ہم قلعہ کی مسجد کے پاس پہنچے تو میں نے اپنی بیوی اور بچی سے کہا کہ اب تو قلعہ فوج کے قبضہ میں ہے۔ نہ معلوم یہاں خدا تعالیٰ کا ذکر کبھی کسی نے کیا ہے یا نہیں۔ آؤ ہم یہاں نماز پڑھ لیں۔ چنانچہ ہم نے وہاں پانی منگوایا، وضو کیا اور نماز پڑھی۔ میری بیوی اور بچی تو جلدی نماز سے فارغ ہو گئیں مگر میں بہت دیر تک نماز میں مشغول رہا اور دعائیں کرتا رہا۔ جب نماز سے فارغ ہوا تو میں نے دیکھا کہ دو اور عورتیں میری بیوی اور بچی سے باتیں کر رہی ہیں۔ میں ایک طرف ہو گیا۔ اس کے بعد میری بیوی میرے پاس آئی اور اس نے بتایا کہ یہ سرحد کی طرف کی عورتیں ہیں۔ ان میں سے ایک کا باپ اور ایک کا چچا بھی ساتھ ہی ہیں۔ اور لڑ کی دریافت کرتی ہے کہ میرا باپ اور چچا آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ان سے مل سکتے ہیں؟ میں نے کہا مجھے ان سے ملنے میں کوئی روک نہیں۔ تم ذرا پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں ٹہلتے ٹہلتے آگے چلا جاتا ہوں اور کچھ دور جا کر ان سے ملاقات کر لیتا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لڑکی کہتی ہے ہم نے ابھی نو کر اپنے باپ اور چچا کی طرف بھجوایا ہے اور وہ آپ سے ابھی ملنے کے لئے آتے ہیں۔ چنانچہ میں آگے چل پڑا اور میری بیوی اور بچی دوسری مستوارات کے ساتھ پیچھے رہیں۔ جب میں دیوان خاص یا کسی