خطبات محمود (جلد 24) — Page 320
$1943 320 خطبات محمود اور اکٹھے ہی کھانا کھایا کرتے تھے۔وہ کہتے ہیں جب میں اس کو دیکھتا کہ نہ صرف وہ مجھ سے کلام نہ کر تا بلکہ اس کی آنکھوں میں محبت اور پیار کا نشان مجھے نظر نہ آتا تو میرے دل کو سخت دکھ محسوس ہو تا۔ایک دفعہ وہ اپنے باغ میں کام کر رہا تھا کہ میں اس کے پاس گیا اور میں نے اسے کہا تم کو پتہ ہے کہ میں منافق نہیں اور تم کو پتہ ہے کہ یہ خطا جو مجھ سے ہوئی اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے لئے قربانی کا مادہ میرے اندر نہیں پایا جاتا۔یہ ایک قصور ہے جو سستی کی وجہ سے مجھ سے سرزد ہو گیا۔مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔میں نے پھر اسے توجہ دلائی۔مگر اس نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔پھر توجہ دلائی مگر پھر کوئی جواب نہ دیا۔آخر چو تھی بار میں نے توجہ دلائی تو اس نے بغیر میری طرف دیکھنے کے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا اور کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اس کا مجھے اتنا صدمہ ہوا، اتنا صدمہ ہوا کہ شدتِ غم کی وجہ سے باغ کا رستہ بھی مجھے نہ ملا اور میں دیوار پھاند کر پاگلوں کی طرح شہر کی طرف چل پڑا۔رستہ میں مجھے ایک شخص ملا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم فلاں شخص ہو۔میں نے کہا ہاں۔اس نے ایک خط نکالا جو ایک ہمسایہ بادشاہ کا تھا اور جو میرے نام لکھا ہوا تھا اُس چٹھی کا مضمون یہ تھا کہ تم عرب کے رئیس ہو اور تمہاری لوگوں کے دلوں میں بہت بڑی عزت ہے مگر ساتھ ہی رسول کریم صلی لی ایم کا نام لے کر لکھا تھا کہ وہ نہیں جانتا شریفوں کی کس طرح قدر کیا کرتے ہیں۔میں نے سنا ہے کہ اس نے تمہیں سزا دی ہے۔تم میرے پاس چلے آؤ میں ہر طرح تمہارا اعزاز و اکرام کروں گا اور تمہاری شان کے مطابق تم سے سلوک کروں گا۔وہ کہتے ہیں میں نے جب اس خط کو پڑھا تو سمجھا کہ یہ شیطان کی آخری تدبیر ہے۔چنانچہ میں نے اس شخص کو اشارہ کیا کہ میرے ساتھ آ جاؤ۔آگے تنور جل رہا تھا۔میں نے وہ خط اس تنور میں ڈال دیا۔اور اسے کہا جاؤ اپنے بادشاہ سے کہہ دو کہ یہ تمہارے خط کا جواب ہے۔وہ رسول کریم صل ال ظلم کا واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اور تو سب چیزیں برداشت ہو جاتی تھیں مگر رسول کریم صلی ا لی ایم کی ناراضگی برداشت کرنے کی طاقت نہیں تھی۔میرا کام یہ تھا کہ جب رسول کریم صلی لی کم باہر آتے تو میں آپ کی مجلس میں پہنچتا اور زور سے کہتا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔پھر میں رسول کریم صلی للی نیلم کے منہ کی طرف دیکھنے لگ جاتا کہ آیا آپ کے ہونٹ جواب میں