خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 288

1943ء 288 خطبات محمود ایسے معنے بیان فرمائیں جو لغت کے مطابق نہ ہوں۔ دنیا میں لوگ اچھے شاعروں کے اشعار یاد کرتے ہیں تو ان کی زبان فصیح ہو جاتی ہے۔ پھر کون احمق کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی الیم پر قرآن کریم جیسا فصیح کلام نازل ہو اور آپ کی زبان فصیح نہ ہو ۔ ہندوستان میں لوگ غالب اور ذوق کے اشعار یاد کرتے ہیں۔ مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی کی کتابیں پڑھتے ہیں اور ان کی زبان فصیح ہو جاتی ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ آنحضرت صلی علیم کی زبان 23 سال تک اللہ تعالیٰ سے عربی میں کلام حاصل کرنے کے باوجود فصیح نہ ہو۔ پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ آپ عربی سے ناواقف تھے وہ یا تو پاگل ہے اور یا ایمان سے خالی ہے اور جو آپ کی طرف کوئی ایسے معنے منسوب کرتا ہے جو لغت کے مطابق نہ ہوں وہ یا تو جھوٹ بولتا ہے اور یا نادان ہے۔ اس نے بات کو سمجھا نہیں۔ بعض اوقات ایک آدمی سمجھدار ہوتا ہے مگر کسی وقت بات سمجھنے میں غلطی کرتا ہے۔ پس رسول کریم صلی الم کی طرف اگر کوئی غلط معنے منسوب کرتا ہے تو اسے ہم تفسير من الرسول نہیں کہیں گے بلکہ کہیں گے کہ یہ آپؐ پر افتراء ہے اور جو معنی لغت، نحو، صرف، علم معانی اور علم بیان ، عقل ، مشاہدہ اور انبیاء گزشتہ کے طریق کے مطابق ہوں، قرآن کریم کی دوسری آیات کے مطابق ہوں وہ گورسول کریم صلی علیم سے مروی نہ ہوں وہ تفسیر بالرائے نہیں ہو گی بلکہ اصلی اور حقیقی تفسیر ہو گی۔ اور آنحضرت صلی العلم کی بیان فرمودہ ہی سمجھی جائے گی۔ روایتوں میں انسان غلطیاں بھی کرتے ہیں۔ ایسے راوی بھی جو بڑے واقف اور سمجھدار ہوتے ہیں بعض اوقات غلطی کر جاتے ہیں۔ بعض باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ لیکن یہ اور بات ہے۔ بہر حال جہاں تک علوم کا تعلق ہے ہر شخص ان کا اتنا واقف نہیں ہوتا کہ کسی کے متعلق فیصلہ کر سکے ۔ تاریخ ایک پیچیدہ علم ہے۔ اس کے لئے علم النفس اور قومی رسوم و رواج سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔ پھر جس شخص کو اس ماحول کا علم نہ ہو جس میں وہ باتیں ہو رہی ہیں یا جسے ان باتوں کا پتہ نہ ہو جو کسی واقعہ کے پس پردہ ہیں اس کا تاریخ کے بارہ میں کوئی فیصلہ کرنا درست نہیں ہو سکتا۔ رسول کریم صلی الم کے زمانہ میں کتابیں نہ ہوا کرتی تھیں اور حافظہ سے کام لینے کا رواج تھا۔ لوگ دس دس، میں بیس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ اور دو دولاکھ اشعار زبانی حفظ کر لیا کرتے تھے۔ آج کون ہے جسے دوچار ہزار اشعار بھی یاد ہوں۔اس