خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 289

$1943 289 خطبات محمود زمانہ میں جو قرآن کریم حفظ کر لے اسے حافظ کہتے ہیں۔لیکن رسول کریم صل الم کے کسی صحابی کو کوئی حافظ نہیں کہتا۔حالانکہ اس زمانہ میں لوگ اس کثرت سے قرآن کریم حفظ کیا کرتے تھے کہ ایک لڑائی میں پانچ سو حافظ شہید ہوئے تھے۔مگر حافظ کسی کو نہیں کہا جاتا۔آجکل تو اگر کسی کو سارا قرآن حفظ نہ ہو تو بھی اسے حافظ کہہ دیتے ہیں۔اگر پوچھو کیا آپ نے قرآن کریم حفظ کیا ہے تو جواب ملتا ہے کہ نہیں سارا تو حفظ نہیں پانچ پارے کئے ہیں۔تو ایسے لوگوں کو بھی آج کل حافظ کہا جاتا ہے جن کو قرآن کریم کا کچھ حصہ ہی یاد ہو۔یہ حافظہ کی کمزوری کی علامت ہے۔آجکل کتابوں اور نوٹ رکھنے کا رواج عام ہو گیا ہے۔لوگ حفظ کرنے پر زور نہیں دیتے۔مگر آنحضرت صلی اللہ نیم کے زمانہ میں حفظ کرنے کا بہت رواج تھا۔شاعروں کے ساتھ بعض لوگ ہوتے تھے جن کو راویہ کہتے تھے۔ان کو ان کے سب اشعار یاد ہوتے تھے۔گویا دس دس، بیس بیس ہزار اشعار یاد ہوتے تھے اور چونکہ مقابلہ میں بھی اشعار پڑھنے پڑتے تھے اس واسطے دوسرے شاعروں کے اشعار بھی ان کو یاد ہوتے تھے۔اور اس طرح ان کو لاکھ لاکھ ، دو دولاکھ اشعار زبانی یاد ہوتے تھے۔ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ شاعروں پر بہت داد و دہش کیا کرتا تھا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ ان کے ذریعہ زبان زندہ رہتی ہے۔اس کے وزراء نے خیال کیا کہ اس طرح تو یہ تمام خزانہ لٹا دے گا۔اور اس سے روکنے کے لئے اسے مشورہ دیا کہ کوئی شرط انعام کے لئے ہونی چاہیئے تابڑ ا شاعر ہی انعام حاصل کر سکے۔اس طرح تو ہر ایک انعام لے جاتا ہے۔یہ شرط ہونی چاہئے کہ آپ کے سامنے صرف وہی شاعر آئے جسے ایک لاکھ شعر زبانی یاد ہوں۔چنانچہ اس شرط کا اعلان کر دیا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ شاعروں کا آنا بند ہو گیا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب حفظ کرنے کا رواج کم ہو چکا تھا۔ایک بڑا شاعر تھا لوگوں نے ان سے ذکر کیا کہ بادشاہ نے ایسا حکم جاری کر دیا ہے۔جس سے ملک کے ادب اور زبان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔آپ بادشاہ کے پاس جائیں۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ وہ بادشاہ کے دربار میں گئے اور اطلاع کرائی کہ ایک شاعر بادشاہ سے ملنا چاہتا ہے۔وزراء کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ آپ ملنا تو چاہتے ہیں مگر آپ کو معلوم ہے بادشاہ سے ملنے کی شرط کیا ہے؟