خطبات محمود (جلد 24) — Page 276
خطبات محمود الله 276 * 1943 اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قربانی میں ڈال دے۔آخر موسیٰ علیہ السلام کے پاس ان میں سے کونسی چیز موجود تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ان میں سے کونسی چیز موجود تھی، حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس ان میں سے کونسی چیز موجود تھی، رسول کریم ی ایم کے پاس ان میں سے کونسی چیز موجود تھی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو یہ نصیحت کر رہے تھے ان کے پاس اس میں سے کونسی چیز موجود تھی۔آپ جن باتوں کا ذکر کر رہے تھے اور مسلمانوں سے فرمارہے تھے کہ چونکہ یہ چیزیں تمہارے پاس نہیں ہیں اس لئے غیر قوموں سے لڑائی کرنا تمہارے لئے جائز نہیں۔تمہارے پاس دولت نہیں، تمہارے پاس جتھا نہیں، تمہارے پاس تلوار نہیں، تم میں طاقت اور ہمت نہیں۔اس لئے اے مسلمانو ! تم غیر قوموں کے مقابلہ کے لئے مت نکلو۔یہ چیزیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کب تھیں۔عزم و استقلال تو انبیاء میں ہوتا ہی ہے۔دولت، حکومت، جتھا اور ظاہری طاقت و قوت میں سے کون سی چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس تھی یا کب یہ چیزیں محمد علی ایم کے پاس تھیں۔کب یہ چیز میں حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس تھیں۔کب یہ چیزیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تھیں۔کب یہ چیزیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس تھیں۔کب یہ چیزیں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس تھیں۔مگر باوجود اس کے کہ ان سامانوں میں سے کوئی سامان بھی ان کے پاس نہ تھا پھر بھی وہ دشمنوں کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے اور اس مقابلہ میں وہ ہر گز قابل الزام نہ تھے ، وہ ہر گز قابل ملامت نہ تھے بلکہ وہ قابل تعریف تھے۔اس لئے کہ جس چیز کی حفاظت کے لئے وہ کھڑے ہوئے تھے اور جس لڑائی میں وہ حصہ لے رہے تھے اس میں گو ظاہری حفاظت کے سامان ان کے پاس موجود نہیں تھے مگر ان دنیوی سامانوں سے بڑھ کر ایک اور امید دلانے والی چیز ان کے پاس موجود تھی۔اور وہ خدا کا وعدہ تھا جس کے بھروسہ پر مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔نوح علیہ السلام کے پاس یہ سامان نہیں تھے مگر پھر بھی وہ اس لئے دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے کہ خدا کی طرف سے یہ وعدہ تھا کہ ہم ان سامانوں کی بجائے اپنی نصرت اور مدد تمہارے شامل حال رکھیں گے۔پس انہوں نے دشمن کا مقابلہ کیا مگر ان سامانوں کی بناء پر نہیں بلکہ