خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 261

1943ء 261 خطبات محمود آنحضرت صلی اللی ام رت صلی العلیم سے اس قربانی کا مطالبہ کرتے تھے جس کا مجھ سے کیا جاتا۔ سے کیا جاتا ہے میں اسے اخلاص نہیں بلکہ عدم علم اور دین کی ناواقفیت سمجھتا ہوں۔ علیروم رسول کریم صلی الم کے پڑھے ہوئے نکاح بہت ہی محدود ہیں مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ذہنیت یہ ہو رہی ہے کہ اسلام زندہ رہے یا مرے ، اسلامی علوم پر کتابیں لکھی جاسکیں یا نہ لکھی جاسکیں مگر یہ ضروری ہے کہ ہمارا نکاح خلیفہ پڑھے۔ تم میں کون سا ایسا مخلص ہے جو اپنے آپ کو کسی ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی پر ترجیح دے سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میری میری جماعت میں کئی ا کئی ایسے ہیں جو صحابہ کار جو صحابہ کا رنگ رکھتے ہیں ہیں اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں۔ مگر قربانی کا جو موقع آپ لوگوں کو ملا اس کے پیش نظر کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے ادنیٰ سے ادنی صحابی سے زیادہ قربانی کی اور اپنی قوتوں اور طاقتوں کے استعمال کے لحاظ سے کوئی پاگل ہی کہہ سکتا ہے کہ میں رسول کریم صلی العلیم سے زیادہ ہوں۔ حدیثوں میں رسول کریم صلی علی ام کے پڑھائے ہوئے نکاح پانچ دس سے زیادہ نہیں ہیں اور عام دعوتوں کو تو جانے دو۔ عشرہ مبشرین میں سے ایک رسول کریم صلی علی ایم کا عزیز اور ایسا عظیم الشان انسان کہ جس کے متعلق رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ جب تک عبدالرحمٰن بن عوف زندہ ہے اسلام بر باد نہیں ہو سکتا۔ اس کی شادی ہوتی ہے اور رسول کریم صلی علیم اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم نے ولیمہ کیا۔ 1 اگر کسی ایسے شخص سے جس کی کوئی بھی اسلامی خدمت نہیں۔ آج میں یہ سوال کروں تو وہ فوراً یہی جواب دے گا کہ اگر میں ولیمہ کرتا تو آپ کو نہ بلا تا۔ مگر احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس پایہ کے صحابہ بھی رسول کریم صلی الم کو ولیمہ کی دعوتوں میں نہ بلاتے تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رسول کریم صلی علیم کے عزیز تھے، ہم وطن تھے ، ہم رت تھے۔ پھر عشرہ مبشرین میں سے تھے اور جن کا پا یہ اتنا بلند تھا کہ رسول کریم صلی اللہ یوم فرمایا جب تک عبد الرحمن بن عوف زندہ ہے اسلام پر تباہی نہیں آسکتی۔ شادی کرتے ہیں اور رسول کریم صلی الم ان کی شادی کا حال پوچھتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس تقریب میں شریک نہ تھے اور پھر دریافت فرماتے ہیں کہ کیا تم نے ولیمہ کیا۔ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ تو آپ نے فرمایا کر دینا چاہیئے خواہ ایک بکری ہی ذبح کر کے کر دیا جائے مگر اس وقت ہجرت الله علیم نے