خطبات محمود (جلد 24) — Page 245
خطبات محمود 245 * 1943 پس کام کرنے والی جماعت وہ نہیں ہو سکتی جو چند رپورٹیں شائع کر دے۔بلکہ کام کرنے والی جماعت وہ کہلا سکتی ہے کہ جب کوئی غیر شخص قادیان میں آئے تو بغیر اس کے کہ اسے کوئی بتائے کہ یہاں خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کی جماعتیں ہیں اسے خود بخود محسوس ہونے لگے کہ یہاں کوئی کام کرنے والی جماعت موجود ہے۔جب کوئی لاہور میں جائے یا امر تسر میں جائے یا کسی اور شہر میں جائے تو اس شہر میں داخل ہوتے ہی اسے یہ محسوس ہونے لگ جائے کہ وہ کسی ایسے شہر میں آیا ہے جہاں کوئی نمایاں کام کرنے والی زندہ جماعت موجود ہے۔مگر جہاں جا کر یہ پتہ نہ لگے اور دوسروں کو خود اس بات کی ضرورت محسوس ہو کہ وہ اسے بتائیں کہ یہاں انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کی جماعت ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ لوگ مُردہ ہیں۔اور اپنے اندر زندگی کے کوئی آثار نہیں رکھتے۔یہ چیز ہے جو میں انصار اللہ میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔مگر میں نہیں دیکھتا کہ یہ چیز اُن میں پیدا ہو گئی ہے۔سوائے اس کے کہ کبھی کبھی میرے پاس ان کی طرف سے رپورٹ آجاتی ہے۔حالانکہ رپورٹوں کی مثال تو ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ہماری پنجابی زبان میں کہتے ہیں۔“ آپے میں رچی بچی آپے میرے بچے جیون ”۔بھلا رپورٹوں میں یہ لکھ لینا کیا مشکل ہے کہ فلاں صاحب نے یہ کام کیا اور فلاں صاحب نے وہ کام کیا۔اگر اس طرح کی خدمات ہم گنے لگ جائیں تو ہر شخص اپنی خدمات کی تعداد جتنی چاہے بڑھا لے گا اور یہ سمجھے گا کہ اس نے بہت بڑا کام کیا۔حالانکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ کام ایسا ہو گا جسے کسی صورت میں بھی خدمت قرار نہیں دیا جا سکتا۔مثلاً ہر قدم جو تم اٹھاتے ہو اس کے اٹھاتے وقت تمہارے پیروں کے نیچے ضرور چیونٹیاں آ جاتی ہیں۔آجکل کے موسم میں تو خصوصیت سے چیونٹیاں زیادہ پیدا ہو جاتی ہیں۔اس لئے آجکل تو بالعموم ہر شخص کے پاؤں کے ا نیچے کچھ نہ کچھ چیونٹیاں ضرور آجاتی ہیں۔پھر یہ بھی ایک ثابت شدہ بات ہے کہ تم قدم پاس پاس نہیں رکھ سکتے۔ہر دو قدم کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے اور اس فاصلہ کے اندر آنے والی چیونٹیاں نہیں مرتیں۔پس جب تم چلتے ہو تو کچھ چیونٹیاں مر جاتی ہیں اور کچھ بیچ رہتی ہیں۔اب اگر اسی قسم کی خدمات کا رپورٹوں میں ذکر ہونے لگے تو ایک شخص کہہ سکتا ہے میں نے مخلوق خدا کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔آج میں نے اتنے ہزار یا اتنے لاکھ چیونٹیوں کی جانیں