خطبات محمود (جلد 24) — Page 233
$1943 233 خطبات محمود تردید کی جائے گی اور اگر صحیح ہوں گے تو تائید کی جائے گی۔تو قرآن کریم ہر زمانہ کے انکشافات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ آیت رسول کریم صلی ال نیم کے خاتم النبیین ہونے کا بھی ایک ثبوت ہے۔اگر کوئی ایسا زمانہ آئے جب قرآن کریم ( نعوذ باللہ) دنیا کی اصلاح کے قابل نہ رہے تو یہ رسول کریم صلى الم کے خاتم النبیین ہونے کا (نعوذ باللہ ) رڈ ہو گا۔لیکن جب قرآن کریم ہر زمانہ کے لئے ہو گا تو رسول کریم صلی ال نیم کی صداقت بھی ہر زمانہ میں ثابت ہوتی رہے گی۔پھر خدا تعالیٰ کا عزیز حکیم ہونا بھی انہی معنی کی تائید کرتا ہے نہ کہ ان معنوں کی کہ خدا تعالیٰ نے عربوں میں نبی بھیجا جو انہی کی زبان میں ان سے کلام کرتا تھا۔کیونکہ عزیز حکیم کا یہ مفہوم نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ نے وہی بولی بولنے والا نبی بھیجا جو عرب بولتے تھے کیونکہ وہ عزیز حکیم ہے۔بے شک یہ حقیقت ہے اور ضروری بات ہے کہ نبی وہ زبان بولے جو اس کی قوم کی زبان ہو مگر یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔مثلاً کسی پشتو بولنے والے کے ساتھ میں گفتگو کرنے کے لئے میاں خان میر یا نیک محمد صاحب کو بھیج دوں تو گو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ میں نے پشتو بولنے والے کے پاس پشتو بولنے والا ہی بھیجا۔مگر میں اس پر فخر نہیں کر سکتا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ میں خطبہ پڑھوں اور اس میں کہوں لوگو سنو میں ایسا سمجھدار انسان ہوں کہ یہاں ایک پٹھان آیا تھا میں نے اس سے گفتگو کرنے کے لئے پشتو بولنے والے کو بھیجا۔اگر میں یہ کہوں گا تو سب لوگ ہنس پڑیں گے کہ یہ کون سی بیان کرنے والی بات تھی۔ہر شخص ایسا ہی کرتا ہے۔غرض صرف پہلے معنی کرنے اس جگہ درست نہیں کیونکہ وہ معنی خدا تعالیٰ کے عزیز حکیم ہونے پر دلالت نہیں کرتے۔عزیز اور حکیم کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس فعل میں دو باتیں پائی جانی چاہئیں۔ایک تو حکمت۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے حکمت یہ ہے کہ ہر زمانہ کے مطابق اس کلام میں مفہوم پایا جائے گا اور دوسری بات ہے غلبہ۔کیونکہ عزیز کا لفظ بتاتا ہے کہ وہ غالب ہستی ہے اور یہ غلبہ میرے بیان کردہ تیسرے معنوں کے رو سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ ہی غالب حکمت والا ہے کیونکہ وہی دنیا میں تغیرات آنے