خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 232

$1943 232 خطبات محمود کو کھڑا کیا اور آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے اور جن آیات کو منسوخ قرار دیا جاتا تھا ان کے ایسے معنی بیان فرمائے جنہیں لوگوں کی عقلیں بآسانی قبول کر سکتی ہیں اور جو بآسانی ان کے ذہنوں میں آسکتے ہیں۔یہ ان آیات کا دوسرا بطن تھا جو خد اتعالیٰ نے آپ پر کھولا۔تو قرآن کریم کے سات بطن سے مراد سات عظیم الشان ذہنی اور عقلی اور علمی تغیرات ہو سکتے ہیں اور اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایسے تغیر میں قرآن کریم قائم ہی رہے گا۔کوئی یہ نہ کہہ سکے گا کہ ہمارے زمانہ کی ضروریات کو قرآن پورا نہیں کرتا۔باقی الہامی کتابیں ایسی ہیں کہ جن کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ جب زمانہ بدلا اور دنیا میں تغییر آیا تو ان کتب میں جو کلام تھا اس کے وہ معنی نہ نکلے جو اس زمانہ کے ذہنوں کے مطابق ہوتے۔اس لئے وہ قابل عمل نہ رہیں۔مگر قرآن کریم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوں جوں دنیا میں تغیر آتے جائیں گے اور لوگ قرآن پڑھیں گے تو اس زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والا مفہوم اس میں سے نکلتا آئے گا۔اور لوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن کریم ہی اس زمانہ کے لئے بھی کافی ہے۔اور محمد رسول اللہ صلی یہ نہیں ہیں اس زمانہ کے لئے بھی رسول ہیں۔پھر اور تغیر ہو گا جس میں آج جو تفسیریں ہم لکھتے ہیں ان کے متعلق اس وقت کے لوگ کہیں گے یہ کیسی فرسودہ باتیں ہیں۔تب خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ کھڑا ہو گا اور قرآن کریم سے ہی بتائے گا کہ قرآن اب بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح پہلے زمانوں میں قائم تھا۔اور قرآن کریم کے ایسے حقائق بیان کرے گا کہ یا تو پہلے مفسروں کی غلطی ثابت ہو جائے گی یا پھر اعتراض کرنے والوں کی غلطی نکل آئے گی۔پھر رسول کریم صلی لی ہم نے جو یہ فرمایا ہے کہ قرآن کے سات بطن ہیں اس سے ضروری نہیں کہ یہی مراد ہو کہ سات ہی بطن ہیں۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ دس، بیس، پچاس، سو، ہیں، ہزار، دو ہزار بطن ہوں کیونکہ عربی میں سات کا لفظ تعدد پر دلالت کرتا ہے۔خصوصاً کثرت پر۔تو فرمایا قرآن کو ہم نے ایسا نازل کیا ہے کہ یہ ہر زمانہ کے لئے کافی ہو گا۔اس میں ہر زمانہ کے خیالات پر بحث موجود ہو گی۔اگر اس زمانہ کے لوگوں کے خیالات غلط ہوں گے تو ان کی