خطبات محمود (جلد 24) — Page 226
$1943 226 (24) خطبات محمود قرآن کریم دنیا کے ہر ذہنی تغیر کے لئے کافی ہے (فرموده 15 اکتوبر 1943ء بمقام ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - 1 یہ مختصر سی آیت قرآن کریم میں ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے اعتراض اور بہت سے غلط خیالات جو لوگوں میں پھیلے ہوئے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِه - کہ ہم نے جب کبھی کوئی رسول بھیجا تو اسی زبان میں کلام کرنے والا بھیجا جو اس کی قوم کی زبان تھی۔اس کے عام طور پر یہ معنی کئے جاتے ہیں اور وہ صحیح معنے ہیں کہ ہر نبی جو آتا ہے اسی زبان میں اپنی قوم کو تبلیغ کرتا ہے۔اور اسی زبان میں اس پر الہام نازل ہوتا ہے جو زبان اس کی قوم کی ہوتی ہے۔یہ معنے بھی اپنے رنگ میں مفید ہیں۔کیونکہ یہ اصولی مسئلہ ہے کہ نبی کی بعثت کی غرض لوگوں کو سمجھانا اور ان کی اصلاح کرنا ہوتی ہے۔اگر اس کے اوپر مثلاً ایسا کلام نازل ہو یا وہ کسی ایسی زبان میں بات چیت کرے جسے لوگ سمجھ ہی نہ سکیں تو نبی کی بعثت کی غرض کس طرح پوری ہو سکتی ہے۔پھر یہ تو ہم مانتے ہیں کہ نبی کی صداقت کی یہ دلیل ہوتی ہے کہ وہ راستبار ہوتا ہے مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک شخص راستباز بھی ہو اور کم عقل یا پاگل بھی ہو۔اس لئے کوئی مدعی الہام یا مدعی نبوت