خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 222

$1943 222 خطبات محمود ورس کے کام میں کسی وقت سستی نہ آنے دینی چاہیئے۔ابلغكم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میں تبلیغ کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھتا ہوں۔اس سے آگے ایک اور ضروری سبق دیا گیا ہے۔حضرت نوح فرماتے ہیں وَ انْصَحُ لکھ۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اخلاص کے ساتھ تبلیغ کرنی ضروری ہے۔وہ شخص جسے تبلیغ کی جائے وہ محسوس کرے کہ اسے تبلیغ کرنے والا دن رات اس کی خیر خواہی میں لگا ہوا ہے۔عملاً اس سے ایسی ہمدردی ہونی چاہیئے کہ اسے ہمدردی کا یقین ہو جائے۔یہ خیر خواہی اور ہمدردی ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے تبلیغ مؤثر ہو سکتی ہے۔پرانے اطباء نے لکھا ہے کہ جب کوئی دوائی بے اثر ہو جائے اور طبیعت کے ساتھ مل جائے تو اس کے ساتھ دار چینی ملا دینی چاہیئے۔اس سے وہ پھر نفوذ پیدا کرتی ہے۔گو یا دار چینی اثر کو بڑھا دیتی ہے۔اسی طرح جو تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے ہمدردی اور خیر خواہی اس کے اثر کو بڑھانے کے لئے بمنزلہ دار چینی ہے۔نُضع خیر خواہی کو کہتے ہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کی تعلیم کے ساتھ خیر خواہی کی دار چینی نہ ملائی جائے اثر پوری طرح نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تعلیم آتی ہے وہ بے شک نہایت اعلیٰ ہوتی ہے مگر پھر بھی اسے لوگوں کے دلوں میں داخل کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اسے پہنچانے والے اخلاص سے کام لیں۔اور اپنی ہمدردی کا یقین دلائیں۔یہ نہ ہونا چاہیئے کہ وہ کہتے رہیں وہ مارا، وہ تباہی آئی بلکہ ایسی ہمدردی اور خیر خواہی ہونی چاہیے کہ لوگ سمجھیں کہ یہ ہمارے باپ اور ماں سے بھی زیادہ ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔بلکہ تکلیف دینے اور مخالفت کرنے والوں کے ساتھ بھی ہمدردی ضروری ہے۔رسول کریم صلی ال نیم کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔طائف کے لوگوں نے جب آپ پر پتھر برسائے تو جس وقت آپ واپس آرہے تھے جبریل آئے اور کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اس زمین کا تختہ الٹا دوں۔مگر آپ نے فرمایا نہیں۔اِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔2 ان لوگوں کو سزا نہ دی جائے کیونکہ ان کو علم نہیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی روایت ہے۔مولوی صاحب اوپر کے کمرہ میں تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نچلے کمرہ