خطبات محمود (جلد 24) — Page 221
1943ء 221 خطبات محمود 1۔ اسے ایسے شخص کے ذریعہ دوسروں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے جو پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو۔ 2 ۔ جن کو وہ پہنچائی جائے وہ اس کے ماننے کی قابلیت رکھتے ہوں۔ 3۔ یہ کہ جن کے سپر د اس تعلیم کا پہنچانا ہو وہ اسے پوری طرح پہنچا بھی دیں۔ غرض رب کا لفظ کہہ کر یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو جو اس کام پر مقرر فرمایا تو اسے اس کام کے کرنے کے قابل سمجھ کر مقرر فرمایا ہے۔ پھر رسلت کا لفظ رکھ کر بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو بھی اس قابل سمجھا کہ وہ اس پیغام کو سن لیں۔ اگر وہ اس قابل نہ ہوتے تو اس پیغام کے لئے رسلت کا لفظ استعمال نہ کیا جا سکتا تھا۔ حضرت نوح فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اندر یہ طاقت رکھی ہے کہ میں اس پیغام کو پہنچا سکوں اور تمہارے اندر یہ طاقت رکھی ہے کہ اسے قبول کر سکو۔ تیسری بات ابلغم کے لفظ سے یہ بیان فرمائی اور بتایا کہ حضرت نوح اس پیغام کو خوب اچھی طرح پہنچاتے ہیں اور آئندہ پہنچائیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ باوجود بیماری کے آپ رات دن لگے رہتے تھے۔ اور اشتہار پر اشتہار دیتے رہتے تھے۔ لوگ آپ کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔ ایک اشتہار دیتے تھے اس کا اثر دور نہیں ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے مخالفت میں جو جوش پیدا ہوتا تھا وہ ابھی کم نہ ہوتا تھا کہ دوسرا اشتہار آپ شائع کر دیتے تھے۔ حتی کہ بعض لوگ کہتے تھے کہ ایسے موقع پر کوئی اشتہار دینا طبائع پر برا اثر ڈالے گا مگر آپ اس کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ لوہا گرم ہی کو ٹا جا سکتا ہے۔ اور ذرا جوش ٹھنڈا ہونے لگتا تو فوراً دوسرا اشتہار شائع فرما دیتے تھے۔ اس کی وجہ سے پھر مخالفت کا شور بپا ہو جاتا۔ آپ نے رات دن اسی طرح کام کیا۔ اور یہی ذریعہ کامیابی کا ہے۔ اگر یہ ذریعہ ہم اختیار کریں تو کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا خیال نہ کرنا چاہیے کہ مخالفت کم ہونے دی جائے۔ جماعت کا ایک حصہ جو پیغامی اعتراضات سے ڈر جاتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ بعض اوقات خواہ مخواہ جوش دلایا جاتا ہے اور ناواجب طور پر مخالفت کی آگ کو بھڑ کا لیا جاتا ہے۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ ابلغم میں یہی سبق دیا گیا ہے کہ رات دن ایک کر کے کام کرنا چاہیئے اور تبلیغ