خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 18

$1943 18 خطبات محمود اور وقت ایسا نازک ہے کہ ظاہری تدابیر سب بیچ نظر آتی ہیں۔اس وقت علاوہ فوجی طاقت کے آسمان کی مدد بھی آپ کے لئے بہت ضروری ہے۔اس لئے آپ میرے ساتھ حضرت موسیٰ رضا کی قبر پر چل کر دعا کریں کہ ان کے طفیل اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے۔اس کی غرض اس سے یہ تھی کہ اس کے دل پر شیعیت کا اثر ڈالوں۔گبن کہتا ہے کہ مسلمان بے شک کافر ہیں اور بڑی وحشی قوم ہے مگر اس واقعہ کو دیکھ کر شرم کے مارے میرا سر ندامت کے مارے جھک جاتا ہے کہ جو عدل وانصاف کا نمونہ اس قوم سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے دکھایا ہماری قوم کے کسی بوڑھے بادشاہ کی زندگی میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس کا وزیر اسے موسیٰ رضا کی قبر پر لے گیا اور وہ دونوں وہاں جا کر خد اتعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی۔دونوں نے اپنے اپنے رنگ میں دعا کی اور دعا کے بعد جب کھڑے ہوئے اور آنسو پونچھے تو اس نوجوان شہزادہ نے وزیر سے سوال کیا کہ تم نے کیا دعا مانگی۔اس نے کہا میں نے یہ دعامانگی ہے کہ اے خدا تو جانتا ہے کہ یہ شہزادہ تخت و تاج کا حقدار ہے، ولی عہد ہے ، اس کا باپ مر گیا ہے اور لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی ہے تو اسی بزرگ کے طفیل اس پر رحم کر۔یہ سن کر اس نوجوان شہزادے نے کہا کہ میں نے تو یہ دعا نہیں مانگی۔وزیر نے عرض کیا کہ پھر آپ نے کیا دعا مانگی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے تو یہ دعا مانگی ہے کہ اے خدا مجھے معلوم نہیں کل کو میں ملک و وطن کے لئے کیسا ثابت ہوں۔ممکن ہے ظالم ثابت ہوں اور ممکن ہے میری ذات سے ملک کو اور اسلام کو کوئی صدمہ پہنچے اور ممکن ہے میرے چا یا بھائی کے ہاتھوں سے ملک کو اور اسلام کو کوئی فائدہ پہنچے۔اس لئے کل کی جنگ میں تو اسے فتح دیجیو جس کے ہاتھ سے ملک اور اسلام کو فائدہ پہنچنے والا ہو۔یہ وہ لوگ تھے جن کو اس تیس سالہ دور عدل و انصاف کی جڑوں سے پھوٹنے والی نئی کونپلیں کہا جاسکتا ہے اور جن کی وجہ سے مسلمانوں کو اتنی لمبی حکومت کا موقع ملا۔آج اسلام کی ترقی کے لے ہم جتنی کیفیت میں ترقی کریں گے تقویٰ، نیکی، دیانتداری راستبازی اور عدل و انصاف میں ترقی کریں گے اتنی ہی دنیا کی دعائیں ہمارے حق میں بڑھتی جائیں گی اور خدا تعالیٰ کے عرش سے فضل کو ہمارے لئے کھینچیں گی۔لیکن اگر یہ دعائیں ہمارے لئے نہ ہوں گی تو نہ زمین سے ہماری ترقی کے سامان