خطبات محمود (جلد 24) — Page 17
$1943 17 خطبات محمود آئیں۔1 یہ وہ حکومت تھی جس کے لئے لوگوں کے دلوں سے دعائیں نکلتی تھیں۔آسمان کے فرشتوں نے بھی کہا کہ ان لوگوں کو لمبی حکومت کرنے کا موقع دیا جائے۔یہ حکومت تو صرف تیں سال تک ہی رہی جو اسلامی اصول کے مطابق قائم تھی مگر اس کی جڑیں اتنی مضبوط تھیں کہ بڑے بڑے ظالم بادشاہوں نے بھی اس کی جڑیں اکھیڑ نے کا کام ایک ہزار سال میں کیا اور اتنے طویل عرصہ کے بعد اس کا خاتمہ کر سکے۔دنیا میں بہت کم کسی قوم نے اتنی لمبی حکومت کی ہے جتنی مسلمانوں نے کی۔عیسائی حکومتوں کا زور اٹھارہویں صدی کے آخر میں شروع ہوا ہے مگر ابھی ان پر ڈیڑھ پونے دو سو سال کا عرصہ ہی گزرا ہے کہ وہ لڑ کھڑا رہی ہیں مگر مسلمانوں نے قریباً ایک ہزار سال تک نہایت شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی ہے۔اور یہ اثر اس تیس سالہ اسلامی حکومت کا تھا۔بعد میں گو مسلمانوں میں بھی بعض ظالم اور جابر بادشاہ ہوئے مگر نیکی کی جڑیں قائم رہیں اور ان سے نیک پورے بھی پیدا ہوتے رہے۔جس طرح بعض درخت گو کٹ جاتے ہیں مگر ان کی جڑوں سے نئی روئیدگی پید اہوتی رہتی ہے۔اس روئیدگی میں سے صدیوں بعد ایک بادشاہ پیدا ہوا جس کا ذکر عیسائی مؤرخ گبن نے کیا ہے وہ عیسائی مؤرخوں میں سے نسبتاً کم متعصب مؤرخ ہے اور عیسائیت کا بڑا مؤرخ مانا جاتا ہے۔اس نے رومی حکومت کی ترقی اور تنزل پر ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ ایک اسلامی بادشاہ ملک ارسلان کا ایک واقعہ بیان کرتا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ وہ 18، 19 سال کی عمر کا ایک نوجوان شہزادہ تھا جب اس کا باپ فوت ہوا وہ ولی عہد تھا مگر چھوٹی عمر کا تھا۔اس لئے کئی لوگوں نے بغاوت کر کے ملک کو تقسیم کرنا چاہا۔اس کا چچا بھی صاحب اثر ور سوخ تھا۔اس نے الگ باد شاہی کا دعویٰ کر دیا اور بہت سے لوگ اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ایک اس کا سوتیلا بھائی تھا جس کے ماموں بہت طاقتور تھے وہ اسے بادشاہ بنانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے اس بھانجے کے نام پر بغاوت کر دی۔ادھر سے اس نے بھی کچھ فوجیں جمع کیں۔گویا تین فوجیں ایک دوسرے کے مقابلے پر تھیں۔جس دن جنگ ہونے والی تھی اس نوجوان کے وزیر نے جو شیعہ تھا اور جس کا نام نظام الدین طوسی تھا اس سے کہا کہ آپ کے چا کی طاقت بہت بڑی ہے اور آپ کے بھائی کے ماموں بھی بہت طاقتور ہیں اور انہوں نے بھی بڑی فوج جمع کر لی ہے