خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 167

$1943 167 خطبات محمود نرم نرم لقمہ میرے منہ میں جاتے ہی مجھے خیال آیا کہ اگر یہ چکیاں اس وقت ہو تیں تو میں اس آٹے کی روٹی پکا کر رسول کریم صلی نیم کو کھلایا کرتی۔یہی خیال ہے جس کے آنے سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ لقمہ میرے گلے میں پھنس گیا۔اب دیکھ لو یہ سچے عشق کا نتیجہ ہے۔روٹی کی نرمی میں کوئی شبہ نہیں۔آٹے کے اچھا ہونے میں کوئی شبہ نہیں مگر جب اس نعمت کے استعمال کا وقت آیا تو جو محبوب ترین وجو د تھا اس کی طرف خیال چلا گیا کہ کاش یہ نعمت ہم اس کے سامنے رکھ سکتے۔میں نے کئی دفعہ اس زمانہ کے ایک عاشق کا بھی قصہ سنایا ہے۔منشی اروڑا صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے۔ان کی عادت تھی کہ وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر جمعہ یا اتوار کو قادیان پہنچ جایا کریں۔چنانچہ انہیں جب بھی چھٹی ملتی یہاں آ جاتے اور کوشش کرتے کہ اپنے سفر کا ایک حصہ پیدل طے کریں تاکہ کچھ رقم بچ جائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر سکیں۔ان کی تنخواہ اس وقت بہت تھوڑی تھی۔غالباً پندرہ بیس روپے تھی اور اس میں وہ نہ صرف گزارہ کرتے بلکہ سفر خرچ بھی نکالتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی نذرانہ پیش کرتے۔میں نے ان کا ہمیشہ ایک ہی کوٹ دیکھا ہے دوسرا کوٹ پہنتے ہوئے میں نے ان کو ساری عمر میں نہیں دیکھا۔انہوں نے تہہ بند باندھا ہوا ہو تا تھا اور معمولی سا کر نہ ہو تا تھا۔ان کی بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کرتے رہیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں نذرانہ عقیدت کے طور پر پیش کر دیں۔رفتہ رفتہ وہ اپنی دیانت سے ترقی کرتے چلے گئے اور تحصیلدار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے کچھ مہینوں یا ایک سال کے بعد وہ قادیان میں آئے اور مجھے اندر کسی نے آکر کہا کہ منشی اروڑا صاحب دروازہ پر آپ کو ملنے کے لئے آئے ہیں۔میں باہر گیا انہوں نے جلدی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب میں سے ( مجھے اچھی طرح یاد نہیں) تین یا چار پونڈ سونے کے نکالے اور نکال کر میرے سامنے کئے۔جو نہی انہوں نے پونڈ دینے کے لئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا ان پر اتنی رقت طاری ہوئی کہ وہ چیچنیں مار کر رونے لگ گئے اور انہوں نے