خطبات محمود (جلد 24) — Page 148
خطبات محمود 148 $1943 فرمایا قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ 1 تُو کہہ دے اللہ ایک ہی ہے۔وہ نہ تو ایک سے بیٹا اور روح القدس بن سکتا ہے اور نہ یہ تینوں واپس ایک ہو سکتے ہیں۔وہ نہ تو تنوع اختیار کر سکتا ہے اور نہ اس تنوع کو مٹانے سے پھر ایک ہوتا ہے۔یہ سورۃ اس آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ کی احدیت کو ثابت کرنے کے لئے ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آخری زمانہ میں ایک ایسے مامور کو پیدا کیا جس کے لئے سارے مذاہب میں پیشگوئیاں رکھ دیں اور اس طرح سب مذاہب میں پیشگوئیاں رکھ کر تمام لوگوں کو ایک نقطہ پر لا کر جمع کر دیا کیونکہ احدیت بھی ایک ہی نقطہ پر جا کر ثابت ہو سکتی ہے۔پہلے مختلف انبیاء مختلف اقوام میں آتے تھے اور مختلف نام اللہ تعالیٰ کے دنیا میں بولے جاتے تھے۔کوئی گاڈ کہتا اور کوئی پر میشور ، کوئی یزدان بولتا اور کوئی الو ہیم۔اس طرح دنیا نے خدا تعالیٰ کے مختلف نام رکھے ہوئے تھے۔یہ سب کے سب ایک ہی ذات کی طرف اشارہ کرتے تھے اور لوگوں کو دھوکا ہوتا تھا کہ یہ ہندوؤں کا خدا ہے، یہ زرتشتیوں کا خدا ہے اور یہ یہودیوں کا خدا ہے وغیرہ وغیرہ۔ان مختلف ناموں سے دھوکا ہو تا تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ بھی قومی خدا بن کر رہ گیا تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی ایم کے ذریعہ تمام دنیا کے لئے ایک دین بھیج کر سب کو ایک خدا کی طرف متوجہ کیا۔خدا تعالیٰ کے کلام کو ہم سمجھتے دماغ کی روشنی سے ہیں۔ہم قرآن کریم کی عظمت کتنی مانیں مگر کیا ایک پاگل اسے سمجھ سکتا ہے۔اسے ایک مجنون ہر گز نہیں سمجھ سکتا۔خدا تعالیٰ کے کلام کو سمجھنا دماغ سے متعلق ہے۔دماغ ایک آئینہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کے نور کی روشنی پڑتی ہے اور اگر آئینے مختلف قسم کے ہوں تو وہ اشکال بھی مختلف قسم کی دکھاتے ہیں۔کئی آئینے ایسے ہوتے ہیں جو شکل کو بگاڑ کر دکھاتے ہیں۔کئی ایسے ہوتے ہیں جو قد کو لمبا ظاہر کرتے ہیں۔کئی ہوتے ہیں جو چیٹا ظاہر کرتے ہیں۔اور کئی ایک ایسے ہوتے ہیں جن میں گولائی نظر آتی ہے۔آئینے مختلف زاویوں پر کائے جاتے ہیں اور زاویہ کے ماتحت وہ مختلف شکلیں دکھاتے ہیں۔بچپن میں ہم کھیلا کرتے تھے۔ایک شیشہ بازار میں ملتا تھا جس کے اگر ایک طرف دیکھیں تو قد کوئی دس گز لمبا نظر آتا تھا اور دوسری طرف دیکھیں تو بہت چھوٹا اور چوڑا و موٹا دکھائی دیتا تھا۔تو بعض آئینے ایسی طرز کے بنائے جاتے ہیں کہ وہ مختلف اشکال دکھاتے ہیں۔