خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 121

$1943 121 خطبات محمود تا کہ کچھ غلہ ان کے پاس ایسا ر ہے جو دوستوں کی مصیبت کے وقت ان کے کام آئے یاوہ اسے ان کے پاس فروخت کر کے انہیں آرام پہنچا سکیں۔اور اگر انہیں ضرورت نہ ہوئی تو منڈی کی قیمت تو بہر حال اس وقت تک کچھ نہ کچھ بڑھ جائے گی۔وہ اس غلہ کو فروخت کر کے نفع اٹھا سکتے ہیں۔البتہ یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ غلہ کو اطمینان کے ساتھ فروخت کرنا چاہیئے۔گھبر اہٹ کے ساتھ بیچنا بڑا خطرناک ہوتا ہے۔یہ تو میری زمینداروں کو نصیحت ہے۔شہر والوں کو نصیحت یہ ہے کہ وہ بھی اندازہ کے مطابق سال بھر کے لئے غلہ جمع کر لیں اور ہو سکے تو ہیں فیصدی زائد غلہ وہ بھی اس نقصان کو مد نظر رکھتے ہوئے جو غلہ میں ہو جاتا ہے یا مہمانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے محفوظ کر لیں۔کسی کو کیا علم ہے کہ کب اس کے ہاں مہمان آجائیں۔اگر اس کے پاس زائد غلہ ہو گاتو وہ ایسے موقع پر کام دے سکتا ہے۔پچھلے سال میں نے قادیان کے غرباء کے لئے غلہ کی تحریک کی تھی۔اس سال بھی میں جماعت کے دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ جتنا غلہ وہ اپنے لئے جمع کریں اس کا چالیسواں حصہ قادیان کے غرباء کی امداد کے لئے دے دیں۔میں نے گزشتہ سال پچاس من غلہ دیا تھا۔اس سال میں ایک سو من غلہ کا وعدہ کرتا ہوں۔گزشتہ سال اس فنڈ میں 1500 من غلہ جمع ہوا تھا۔ایک سو من غلّہ اِنْشَاء اللہ میں دے دوں گا باقی چودہ سو من کا جماعت کے دوستوں کے لئے مہیا کرنا کوئی ایسی چیز نہیں جو مشکل ہو۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے چند شہر وں والے ہی اگر دیانتداری کے ساتھ اپنے اپنے غلے کا چالیسواں حصہ دے دیں تو بغیر کسی خاص قربانی کے یہ مطالبہ پورا ہو سکتا ہے۔چالیسواں حصہ دینے کے معنے یہ ہیں کہ وہ چالیسویں دن ایک فاقہ کر لیں اور اس دن کی روٹی غرباء کو دے دیں یا چالیس دن کی غذا ایک ایک دو دو لقمے کر کے اس طرح کم کریں کہ غرباء کا حصہ خود بخود نکل آئے۔دو چار لقے کم کرنے کے یہ معنے ہیں کہ جو شخص تین بھلکے کھایا کرتا ہے وہ آئندہ یہ عہد کر لے کہ میں تین نہیں کھاؤں گا بلکہ تیسرے پھلکے کا کچھ حصہ چھوڑوں گا۔اس سے اس کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا بلکہ اچھا اثر ہی ہو گا۔پس چالیسویں حصہ کی قربانی ہر گز کوئی بڑی قربانی نہیں۔اس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ جو شخص چار روٹیاں کھاتا ہے وہ ایک روٹی کا دسواں حصہ چھوڑ دے یعنی