خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 89

$1943 89 خطبات محمود میرا کوئی ٹھکانا نہیں مگر نماز سے نکل کر ایک اپنے جیسے بندے کو جس کی ویسی ہی آنکھیں ہیں جیسی اس کی ہیں۔ویسی ہی ناک ہے جیسی اس کی ، ویسے ہی ہاتھ اور پاؤں ہیں جیسے اس کے۔کہتا ہے کہ میں تجھے نکال دوں گا، میں تجھے جوتوں سے سیدھا کروں گا، میں تجھے بتادوں گا کہ میں کون ہوں۔تعجب ہے کہ پچاس دفعہ خدا تعالیٰ کے سامنے ايَّاكَ نَعْبُدُ کہنے والا کہتا ہے کہ میں وہ چیز ہوں اور میں یہ چیز ہوں اور اتنے بڑے دعوے کرتا ہے۔مسجد میں تو وہ کہتا ہے کہ خدا ہی سب کچھ ہے مگر باہر آکر آپ ہی رب بن جاتا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ شخص اتنا جھوٹ بولنے والا ہے کہ جس کی مثال ہی نہیں۔اور پچاس دفعہ دعوے کر کے جھوٹ بول جاتا ہے۔ایسے شخص کے قول کی کیا قیمت رہ جاتی ہے جو ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بلکہ پچاس دفعہ کہتا ہے کہ میں تیر ابندہ ہوں، میں نہایت ذلیل غلام ہوں تو ہی سب سے بڑا ہے مگر باہر نکل کہتا ہے کہ میں ہی سب کچھ ہوں۔بھلا ایسے شخص کے دل میں ایمان پید ا ہی کیسے ہو سکتا ہے جو باوجود کمزور ہونے کے دعوے کرتا ہے کہ میں یوں کر دوں گا اور میں ڈوں کر دوں گا۔اس کے مقابلہ میں خدا کو سب طاقتیں حاصل ہیں مگر پھر بھی وہ ایسا نہیں کہتا بلکہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے۔بعض منافق لوگ جب جماعت سے الگ ہوتے ہیں تو بلند بانگ دعاوی کرتے ہیں۔کہتے ہیں ہم یوں کر دیں گے، ہم ایسا کر دیں گے لیکن میں نے باوجو د جماعت کا امام ہونے کے کبھی نہیں کہا کہ میں ایسا کر دوں گا بلکہ یہی کہتا رہا ہوں کہ جو کچھ خدا کی مرضی ہو گی وہی ہو گا۔انسان کو تو چاہیے کہ اگر اس کے دل میں ایسا گندہ خیال آئے تو بجائے دوسرے کو مارنے کے کہے کہ میں اس خیال کو کچل دوں گا اور اپنے دل کو سنوارنے کی کوشش کرے۔ايَّاكَ نَعْبُدُ کہنے والا اگر غرور اور تکبر سے کام لے تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کی غلامی ہے۔دوسری بات جو وہ بطور دعویٰ کے پیش کرتا ہے ايَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ہے کہ اے خدا میں نے تجھ ہی سے لینا ہے اور کسی بندے سے نہیں مانگنا۔مگر عملاً ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں ایک بندہ کہتا ہے کہ میں ذلیل ہوں، میں حضور کا غلام ہوں۔ادھر سجدے سے سر اٹھاتے ہی لاٹھی لے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔وہاں یہ دوسرا شخص اسی کی شکایت لے کر خدا کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے