خطبات محمود (جلد 24) — Page 71
خطبات محمود 71 $1943 اس سجدہ کا ہونا چاہیے اور جو نچوڑ اس تسبیح کا ہونا چاہیئے وہ ہمارے قلب کے اندر پید اہو گیا ہے یا ا نہیں ؟ اگر ہمارے دل میں خدا تعالیٰ کی حقیقی خشیت اور خدا تعالیٰ سے سچی محبت پیدا ہو گئی ہے تو وہی مغز سمجھی جائے گی اور یہی چیز ہو گی جو قائم ہونے والی ہو گی۔جس طرح کہ گنے کا رس ایک مدت تک محفوظ نہیں رکھا جاسکتا لیکن شکر بنا کر کئی سال تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔اسی طرح ہم نماز کی حرکات کو ہمیشہ قائم نہیں رکھ سکتے کیونکہ دوسرے کام بھی ہوتے ہیں اور سونا بھی انسان کے لئے ضروری ہے۔ہاں ہم اس کے مغز کو اپنے دل میں بھر کر اسی طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں جس طرح شکر کو محفوظ کر لیتے ہیں۔اسی طرح دوسرے اعمال کی حالت ہے۔ان میں سے ایک چیز ساتھ جاتی ہے اور ایک پیچھے رہ جاتی ہے۔مثلاً ہمارا روزہ ہے کہ اس میں بھوک کی کیفیت ایک وقت تک رہتی ہے اور جب شام ہوتی ہے اور ہم پانی یا کھجور یا اور کسی چیز سے روزہ افطار کرتے ہیں تو بھوک تکان کی کیفیت جاتی رہتی ہے لیکن دوسری کیفیت جو سچے طور پر روزہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے وہ ساتھ چلتی ہے اور یہ کیفیت حسب حالات صائم بعض دفعہ چند گھنٹے ، بعض دفعہ چند دن، بعض اوقات چند مہینے ، بعض دفعہ کئی سال اور بعض مرتبہ آخر دم تک ساتھ رہتی ہے۔جس قدر اخلاص ہو گا اسی قدر عرصہ وہ انسان کے ساتھ رہے گی۔اگر معمولی اخلاص سے کسی نے روزہ رکھا تو شاید یہ کیفیت روزہ کھولنے کے بعد سے سونے کے وقت تک قائم رہے اور اگر اس سے زیادہ اخلاص سے روزہ رکھا تھا تو شاید دوسرے دن وہ کیفیت قائم رہے۔اور اگر اس سے زیادہ اخلاص سے روزہ رکھا تو مہینہ بھر اور اگر اس سے زیادہ اخلاص سے رکھا تھا تو شائد سال بھر بلکہ بعض دفعہ ساری عمر کے لئے اللہ تعالیٰ اس کی حالت کو بدل دے۔اسی طرح لوگ حج کو جاتے ہیں ، وہاں دعائیں کرتے ہیں، طواف کرتے ہیں، قربانیاں کرتے ہیں۔یہ ساری رسمیں وہاں ہی رہ جاتی ہیں۔طواف کے بعد وہ طواف وہیں رہ جاتا ہے۔منی میں ٹھہرا، وہاں دو تین دن گزارے تو یہ اس کا ٹھہر نا عارضی چیز تھی وہیں رہ گئی کیونکہ جب ہم کسی کو حاجی کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اس وقت بھی طواف کر رہا ہے یا عرفات میں جارہا ہے یا منی میں ٹھہرا ہوا ہے۔بلکہ ممکن ہے کہ وہ حاجی ان مقامات کو بھول بھی گیا ہو کہ وہ کہاں اور کس طرف واقع ہیں اور ان کا کیا نقشہ ہے۔لیکن اگر کسی نے حج سچی خشیت