خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 34

خطبات محمود 34 $1943 ہدایت ہے مگر فرض نہیں۔لیکن یہ فرض ہے کہ کسی کام پر کسی کو لگانے کا اختیار ہو تو صرف ایسا آدمی رکھا جائے جو واقع میں اس کام کا اہل اور مستحق ہو۔کسی کی مدد کرنا اور اس کے لئے روز گار کا مہیا کرنا نفل ہے مگر کسی کام پر اس کے لئے موزوں اور اہل آدمی کو مقرر کرنا فرض ہے۔اور اگر کوئی نفل کے لئے فرض کو ترک کر دے تو یہ بہت بڑا ظلم ہے۔مگر بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ کسی کی مدد کے خیال سے اسے ایسے کام پر لگا دیا جاتا ہے جس کا وہ صحیح معنوں میں اہل نہیں ہوتا۔اس لئے میں نے یہ اصول مقرر کیا تھا کہ مبلغ صرف اسی کو رکھا جائے جو مبلغین کلاس پاس شدہ ہو۔جہاں تک میری اپنی زندگی کا تعلق ہے میں بغیر فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اہل آدمی کو کسی کام پر مقرر کرنے کے متعلق فرض میں کبھی کو تا ہی نہیں کی۔مجھے اس وجہ سے گالیاں بھی دی گئیں۔بعض اوقات دوست دشمن بن گئے۔مجھے اس وجہ سے بُرا بھلا بھی کہا گیا مگر لِلهِ الْحَمْدُ کہ میں نے کبھی اس فرض کو ادا کرنے میں کو تاہی نہیں کی۔غلطی میں بھی کر سکتا ہوں اور ممکن ہے میں نے کبھی انتخاب میں غلطی کی و مگر دیدہ دانستہ میں نے کبھی اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔لیکن میں جانتا ہوں کہ میرے مددگار اور نائب بعض اوقات ایسا کر لیتے ہیں۔اس لئے میں نے یہ قاعدہ بنا دیا تھا کہ مبلغین کلاس پاس شدہ ہی مبلغ رکھے جائیں مگر کچھ عرصہ سے میں اس بات کو محسوس کر رہا ہوں کہ ایک تو ہمارے یہ مبلغ دیہات میں کام کرنے کے قابل نہیں ہیں ان کی تعلیم اور قادیان کا شہری تمدن کو اختیار کر لینا ان مبلغین کے دیہات میں تبلیغ کرنے کے رستہ میں روک بن گیا ہے۔یہ مبلغ بوجہ اس کے کہ قادیان ایک شہر بن چکا ہے دیہات میں جانے اور وہاں تبلیغ کرنے سے گھبراتے ہیں۔حالانکہ ہمارے ملک کی کثیر آبادی دیہات میں بستی ہے۔دس فیصدی لوگ شہروں میں رہتے ہیں اور نوے فیصدی دیہات میں بستے ہیں۔اور ہمارے ملک کا جو حصہ زیادہ ہے اسے تبلیغ میں نظر انداز کر دینا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔پس ایک تو میں نے یہ نقص دیکھا کہ ہمارے مبلغین بوجہ شہری زندگی اختیار کر لینے کے گاؤں میں جا کر تبلیغ نہیں کر سکتے۔دوسرا نقص مجھے یہ نظر آیا ہے کہ ان مبلغین کا