خطبات محمود (جلد 24) — Page 317
$1943 317 خطبات محمود الله سم بر شخص محبوب الہی ہو جائے تب بھی محنت اور قربانی کا دروازہ بند نہیں ہو سکتا۔حقیقی عشق تو چاہتا ہی قربانی ہے۔کوئی عشق نہیں ہو سکتا جس میں قربانی کا مادہ نہ پایا جائے اور کوئی عشق نہیں ہو سکتا جس میں قربانی کا مادہ ہمیشہ بڑھتا نہ رہے۔رسول کریم صلی علیم کو اللہ تعالیٰ سے جو عشق تھا اس کا کون انکار کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کامیابیاں دیں ہمیں ان کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہوا۔آپ ایسے وقت میں فوت ہوئے جب اس ملک پر آپ کا قبضہ ہو چکا تھا جس میں آپ پیدا ہوئے اور وہ قوم آپ کی غلامی میں داخل ہو چکی تھی جس کی طرف آپ مبعوث ہوئے۔شریعت کے نفاذ کا پورا حق اور تصرف آپ کو حاصل ہو گیا تھا اور قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے اور اس پر عمل کرنے اور کرانے کے لئے جتنے سامانوں کی ضرورت تھی وہ سب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرما دیئے تھے۔ایسے خدام بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرما دیئے جو اپنی جانیں قربان کر کے قرآن کریم کی اشاعت میں حصہ لیتے رہے۔اور اس کے احکام پر عمل کرتے اور دوسروں سے عمل کراتے رہے۔مگر باوجود اس کے دیکھو کیارسول کریم صلی یہ تم پر کوئی بھی دن ایسا آیا جب آپ نے قربانی نہ کی ہو۔بخاری میں حضرت عائشہ روایت فرماتی ہیں۔جب رسول کریم صلی یہ کم بوڑھے ہو گئے۔تب بھی آپ عبادت کے لئے جب رات کو اٹھتے تو اتنی عبادت کرتے اور اس قدر گریہ وزاری سے کام لیتے کہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جاتے۔حضرت عائشہ روزانہ یہ نظارہ دیکھتیں اور دل ہی دل میں کڑھتیں کہ رسول کریم صل ال ل ل ل م اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں۔آخر ایک دن ان سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ اتنی تکلیف کیوں برداشت کرتے ہیں۔کیا اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل نازل نہیں کر دیا۔اور کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کی انگلی اور پچھلی تمام بشری کمزوریوں کے پورا کرنے کے سامان نہیں کر دیئے۔پھر آپ کیوں اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے فرمایا اَلَّا اَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا - 3 عائشہ تو کہتی ہے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کئے پھر کیا تو چاہتی ہے۔میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا شکر یہ ادانہ کروں۔فرمایا عبادت تو لازمی نتیجہ ہے ان فضلوں کا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے اور جس کو تُو قربانی کہتی ہے وہ تو ایک پھل ہے اس بیج کا جسے اللہ تعالیٰ نے ایک درخت کی صورت میں ظاہر فرما دیا۔ها الله سة