خطبات محمود (جلد 24) — Page 290
$1943 290 خطبات محمود دربار کا ایک افسر یہ پیغام لے کر ان کے پاس آیا اور کہا کہ آپ کو معلوم ہے بادشاہ سے ملنے کی شرط کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے کہ ایک لاکھ شعر یاد ہونے چاہئیں مگر آپ جا کر بادشاہ سے کہیں کہ یہ شرط نا مکمل ہے۔یہ بھی بتائیں کہ کیا ایک لاکھ شعر جاہلیت کے زمانہ سے آپ سننا چاہتے ہیں یا اسلام کے زمانہ کے اور پھر یہ بھی کہ عورتوں کے یا مردوں کے۔بادشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ سمجھ گیا کہ فلاں شخص ہو گا۔پہلے بادشاہ نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ بھی ملنے آئیں مگر وہ نہ آتے تھے۔جب بادشاہ کو علم ہوا کہ وہ آئے ہیں تو وہ ننگے پاؤں ان کے پاس آیا اور پوچھا آپ فلاں شخص ہیں۔انہوں نے کہا ہاں۔اور پھر انہوں نے کہا یہ آپ نے کیا شرط لگا دی ہے جس سے علم ، ادب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔بادشاہ نے کہا وزراء کا تو اس شرط سے یہ منشاء تھا کہ شاعر انعام نہ حاصل کر سکیں مگر میر ا مطلب اسے منظور کرنے سے صرف اس قدر تھا کہ کسی طرح آپ آئیں۔آج سے یہ شرط منسوخ ہے۔تو پرانے زمانوں میں حفظ پر بڑا زور دیا جاتا تھا مگر باوجود اس کے احادیث میں کتنا اختلاف ہے۔کیا بخاری کی کوئی ایسی حدیث نہیں جو مسلم کے خلاف ہو اور کیا مسلم کی کوئی ایسی حدیث نہیں جو بخاری کے خلاف ہو۔یہی حال ابن ماجہ اور ترمذی وغیرہ کا ہے۔ہر ایک میں دوسری سے مختلف احادیث ہیں مگر کیا اس اختلاف کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ غیر مستند ہیں یا بخاری اور مسلم قابل اعتبار نہیں ہیں۔نا قابلِ اعتبار صرف اسے کہا جاتا ہے جس کا طریقہ ہی قابل اعتبار نہ ہو۔یوں تو روایت میں ہر کسی سے غلطی ہو سکتی ہے میں کسی مجلس میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں کہ یوں ہوا مگر ایک شخص کہہ دیتا ہے کہ یوں نہیں یہ واقعہ دراصل یوں ہوا تھا مگر اسکے باوجود وہ مجھے اپنے سے زیادہ سچا سمجھتا ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ ان کو بھی غلطی لگ سکتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ اس کے نزدیک میری سند باطل ہو گی۔نہ مجھے اس پر کوئی گلہ ہوتا ہے بلکہ میں بھی کہتا ہوں کہ ہاں یہی بات ٹھیک ہے جو آپ نے بیان کی۔تو کسی واقعہ میں ہر شخص کو غلطی لگ سکتی ہے۔مگر اس کی بناء پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نا قابل اعتبار ہے۔اس وقت صرف چند لوگ ایسے ہیں جن کے ذریعہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی باتیں مل سکتی ہیں۔مفتی صاحب ہیں، شیخ یعقوب علی صاحب ہیں۔