خطبات محمود (جلد 24) — Page 260
خطبات محمود 260 $1943 نیم تندرستی کے دن کہلا سکتے ہیں۔تفسیر کبیر کا جو کام 1940ء میں میں نے کیا اور جس میں راتوں کو بعض اوقات تین تین، چار چار بجے تک کام کرنا پڑتا۔اس میں روزانہ 18،17 گھنٹے کام کرنے کا عمل میری جدوجہد کی زندگی کا آخری دور ثابت ہوا۔اور اس کے بعد قومی مضمحل ہو گئے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ابھی یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ یہ سمجھ سکیں اور یہی سمجھانے کے لئے میں نے یہ تمہید بیان کی ہے کہ ہر انسان انسان ہی ہوتا ہے خواہ اس کا مرتبہ کچھ بھی ہو اور وہ ایک حد تک ہی بوجھ اٹھا سکتا ہے۔اس سے زیادہ بوجھ اگر اس پر ڈالنے کی کوشش کی جائے تو وہ ٹوٹ تو سکتا ہے مگر بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر انسان کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ایک انسانی حیثیت اور دوسرے فرض منصبی کی حیثیت۔میرے تعلقات جماعت کے ساتھ دونوں رنگ کے ہیں۔ایک تمدنی اور سوشل تعلقات اور دوسرے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے سلسلہ کے کاموں کے متعلق۔میرا جو مقدم فرض ہے وہ سلسلہ کے کاموں سے تعلق رکھتا ہے۔اگر ان سے کوئی کام کا وقت بچ سکے تو دوسرے مصرف میں لایا جا سکتا ہے۔لیکن اگر بچ ہی نہیں سکتا تو دوسرے کام میں استعمال نہیں ہو سکتا۔مگر یہ احساس ابھی تک ہمارے احباب میں باوجود اس کے کہ میں پہلے بھی اشارۃ اس طرف توجہ دلا چکا ہوں پیدا نہیں ہوا۔خصوصاً قادیان کے احباب میں یہ پیدا نہیں ہو سکا۔ہر انسان کی تین ہی حالتیں ہو سکتی ہیں۔یا وہ اچھا ہو گا یا بیمار یا نیم بیمار اور نیم درست۔یہی تین جو اب انسان اپنی حالت کے بارہ میں دے سکتا ہے۔مجھ سے بھی جب کوئی یہ پوچھتا ہے کہ حال کیسا ہے تو میں ان میں سے ایک جواب ہی دے سکتا ہوں یا تو کہوں گا الْحَمْدُ لِله اچھا ہے یا یہ کہ الْحَمْدُ للہ پہلے سے اچھا ہوں یا یہ کہ بیمار ہوں۔اور میں نے دیکھا ہے اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں میں اپنی جو بھی حالت بیان کروں دوست مجھ پر زائد بوجھ ڈالنے سے گریز نہیں کرتے۔میں نے پہلے بھی یہ امر خطبہ میں اشارۃ بیان کیا ہے اور بہت غور کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے اخلاص نہیں کہا جاسکتا۔عدم علم اور نادانی کہا جاسکتا ہے۔تم سے بہت زیادہ مخلص رسول کریم صلی ال نیم کے زمانہ میں گزرے ہیں اور مجھ سے بے انتہاء شان کا زیادہ آدمی ان میں موجود تھا مگر ان کے اخلاص کا یہ رنگ نہ تھا اور نہ وہ لوگ