خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 255

$1943 255 خطبات محمود سامنے آتی ہے اسے بکھیر دیتی ہے اور اس طرح وہ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف اس طرف بھی اور اس طرف بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور دنیا پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مگر پھر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب نظام سو جاتا ہے اور عوام جاگتے ہیں یا عوام سو جاتے ہیں اور نظام جاگتا ہے۔اور پھر آخر میں وہ وقت آتا ہے جب نظام بھی سو جاتا ہے اور عوام بھی سو جاتے ہیں۔تب آسمان سے خدا تعالیٰ کا فرشتہ اترتا ہے اور اس قوم کی روح کو قبض کر لیتا ہے۔یہ قانون ہمارے لئے بھی جاری ہے ، جاری رہے گا اور کبھی بدل نہیں سکے گا۔پس اس قانون کو دیکھتے ہوئے ہماری پہلی کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ ہمارا نظام بھی بیدار رہے اور ہمارے عوام بھی بیدار رہیں اور در حقیقت یہ زمانہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔خدا کا مسیح ہم میں ابھی قریب ترین زمانہ میں گزرا ہے۔اس لئے اس زمانہ کے مناسب حال ہمارا نظام بھی بیدار ہونا چاہئے اور ہمارے عوام بھی بیدار ہونے چاہئیں مگر چونکہ دنیا میں اضمحلال اور قوتوں کا انکسار انسان کے ساتھ ساتھ لگا ہوا ہے اس لئے عوام کی کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ وہ نظام کو جگاتے رہیں اور نظام کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کو جگاتار ہے تا خدانخواستہ اگر ان دونوں میں سے کوئی سو جائے ، غافل ہو جائے اور اپنے فرائض کو بھول جائے تو دوسرا اس کی جگہ لے لے۔اور اس طرح ہم زیادہ سے زیادہ اس دن کو بعید کر دیں جب نظام اور عوام دونوں سو جاتے ہیں۔اور خدائی تقدیر موت کا فیصلہ صادر کر دیتی ہے۔پس دونوں کو اپنے اپنے فرض ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اگر دونوں نہ جاگیں تو کم از کم ایک تو جاگے۔اور اس طرح وہ دن جو موت کا دن ہے ہم سے زیادہ سے زیادہ دور رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سب کام خدا کے اختیار میں ہے اور انسان اگر کامیاب ہونا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ عجز اور انکسار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے مگر دعاؤں کے ساتھ انسان کا اپنا ارادہ اور اس کی امنگ بھی شامل ہونی چاہیئے۔تب دعاؤں کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔جیسے میں نے ابھی بتایا ہے کہ جب تقدیر اور تدبیر جمع ہو جاتی ہیں تو اس وقت حرکات کا ظہور اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے یا جیسے میں نے بتایا ہے کہ عوام اور نظام دونوں بیدار ہوں تو وہ وقت قوم کی فتح کا اور وہ گھڑیاں اس کی کامرانی کی گھڑیاں ہوتی ہیں۔محمد علی ای نیم کا زمانہ