خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 256

* 1943 256 خطبات محمود سة ایسا ہی تھا کہ تقدیر بھی آسمان سے جاری تھی اور زمین پر تدبیروں کا ڈھیر لگایا جارہا تھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی ال نیام سے ملاقات کرنے کے لئے ایک وفد آیا۔وفدا بھی پیچھے ہی تھا کہ ان میں سے ایک شخص آگے بڑھ کر رسول کریم صلی اللی علوم سے ملنے کے لے آگیا۔رسول کریم صل الي لم نے اس سے فرمایا تم بہت جلدی آگئے تمہاری قوم نہیں آئی۔اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کہنے لگا یار سول اللہ ! وہ اپنے اونٹ باندھ رہے ہیں مگر میں اپنے اونٹ کو خدا کے سپر د کر کے آ گیا۔رسول کریم صلی اللہ نیلم نے فرمایا جاؤ اور اپنے اونٹ کی رسی باند ھو۔اس کے بعد اپنے رب پر کل کرو۔2 تو وہ زمانہ ایسا تھا جب تقدیر اور تدبیر دونوں اپنے انتہاء کو پہنچی ہوئی تھیں۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اسلام کو وہ فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئیں جن کی مثال نہ پہلے کسی زمانہ میں ملتی ہے اور نہ بعد میں کسی زمانہ میں نظر آتی ہے۔اس وقت آسمان سے خدا تعالیٰ کے فرشتے ہی دشمنوں پر حملہ نہیں کر رہے تھے بلکہ زمین پر مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی کفار مارے جا رہے تھے اور جب دو طرف سے حملہ ہو تو تم جانتے ہو کہ درمیان میں آنے والی کوئی چیز بیچ نہیں سکتی۔پس جب خدا کی تقدیر اور بندے کی تدبیر جمع ہو جاتی ہے تو اس وقت ہر چیز جو درمیان میں آتی ہے مٹتی چلی جاتی ہے اور ہر کامیابی اور ہر فتح حاصل ہوتی جاتی ہے۔پس اصل کامیابی تو اسی بات میں ہے کہ ہم کوشش کریں کہ آسمان سے خدائی تقدیر بھی ہمارے حق میں جاری رہے اور زمین پر ہماری تدبیریں بھی ہمیں کامیابی کے قریب تر کرتی رہیں۔لیکن اگر یہ نہ ہو تو کم سے کم اتنا تو ہونا چاہیئے کہ اگر ہمارے نظام میں خرابی آجائے تو عوام بیدار ہوں جو اس خرابی کو دور کر سکیں اور اگر عوام میں کوئی خرابی واقع ہو جائے تو نظام اس کی اصلاح کے لئے جاگ رہا ہو۔یہ کم سے کم توقع ہے جو ہم سے ہر شخص کو رکھنی چاہیئے تاکہ ہماری قومی اور جماعتی زندگی موت کے دن سے زیادہ سے زیادہ دور رہے۔پس میں اس نصیحت کے ساتھ انصار اللہ کو بھی بیدار کرنا چاہتا ہوں اور خدام الاحمدیہ کو بھی بیدار کرنا چاہتا ہوں۔خدام الاحمدیہ بے شک نسبتاً زیادہ بیدار ہیں مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ بھی قشر کی طرف زیادہ متوجہ ہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ کوئی خوبی نہیں کہ کسی قوم کے تین یا چار پانچ آدمی مل کر اچھا مارچ کر سکتے یا کوئی اور دنیوی کام کر سکتے ہیں بلکہ خوبی یہ۔ہے