خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 231

$1943 231 خطبات محمود سة لوگوں کی عقلی اور ذہنی حالت کے مطابق ہو تا تھا۔لیکن اسلام کے لئے یہ امر مشکل تھا کیونکہ اسلام نے قیامت تک جانا تھا۔اور اس وقت تک لوگ کئی زبانیں بولنے والے تھے۔اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں۔3 عام طور پر لوگوں نے اس حدیث کو پوری طرح نہیں سمجھا۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف زبانوں کے تغیرات کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنی کھلتے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے لوگوں کو قرآن کریم کی کئی آیات کے وہ معنی نظر نہ آئے جو بعد میں تغیر آنے والے زمانہ کے لوگوں کو نظر آئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے جو نکات اور معارف نکالے وہ قرآن کریم میں نئی آیات داخل کر کے نہیں نکالے۔آیات وہی تھیں۔ہاں آپ پر اس زمانہ کے مطابق ان کا بطن ظاہر ہوا۔چونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور موجودہ زمانہ مذہب کے متعلق امن اور صلح کا زمانہ تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم سے امن کے احکام اور صلح کی تعلیم پیش فرمائی۔یہ دوسر ا بطن تھا جو اس زمانہ کے حالات کے مطابق آپ پر کھولا گیا۔پس رسول کریم صلی اللہ ہم نے جو یہ فرمایا کہ قرآن کے سات بطن ہیں اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ دنیا میں سات بڑے تغیرات آئیں گے اور ہر تغیر کے زمانہ میں لوگوں کے وقت بدل جائیں گے۔اس وقت خدا تعالیٰ قرآن کریم کے ایسے معنی کھول دے گا جو لوگوں کے اس وقت کے ذہنوں اور قلوب کو تسکین اور تسلی دینے والے ہوں گے۔اس زمانہ میں بیسیوں مسائل ایسے ہیں جو ایسے رنگ میں کھلے ہیں کہ پہلے ان کی ضرورت اور اہمیت محسوس نہیں کی جا سکتی تھی۔مثلاً آیات قرآنی کے نسخ کا مسئلہ ہے۔پہلے ایسے وقت میں نسخ کا سوال پیدا ہوا کہ اس وقت کے لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہ تھی کیونکہ ان کے سامنے رسول کریم صلی اینیم کا عمل تھا۔پس باوجود نسخ کے عقیدہ کے یہ بات قرآن کریم کی سچائی کے معلوم کرنے پر روک نہ بن سکتی تھی لیکن جب ایسا زمانہ آیا کہ لوگ محمد رسول اللہ صلی علیم کے زمانہ سے دور ہوئے اور دنیا کے ذہنی اور علمی تغیر کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنی نہ کر سکے تو کہنے لگے یہ آیت بھی منسوخ ہے اور وہ آیت بھی منسوخ۔اس وقت خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صا الله سة