خطبات محمود (جلد 24) — Page 195
$1943 195 خطبات محمود کروں۔دل سے خواہ اسے غلط ہی سمجھتا ہو۔مگر جنگ کی وجہ سے دلوں میں نیک تبدیلی کا پیدا ہوناضروری ہے۔ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے سال دو سال میں اپنی تیاری کر لینی چاہیئے تاکہ جنگ کے بعد ہم تبلیغ کے ذرائع سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔لیکن اگر اب تیاری نہ کریں اور جنگ کے بعد کریں اور کہیں اب کیا فائدہ ہو سکتا ہے تو نہ معلوم جنگ کے بعد جب تک ہماری تیاری مکمل ہو اس وقت تک ان کے دل سخت ہو چکے ہوں اور تبلیغ مشکل ہو جائے کیونکہ اس وقت لوگ حادثات کو بھول چکے ہوں گے وہ نئے منصوبے کر رہے ہوں گے اور نئی شرارتیں سوچ رہے ہوں گے۔وہ نہیں چاہیں گے کہ فضول بحثوں میں پڑیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت وہ یہ اثر لیں کہ جس طرح کوئی بندر نچانے والا چند منٹ کے لئے دل بہلا دیتا ہے یہی حال مذہبی مبلغوں کا ہے۔پس ہم کو روپیہ سے اور لٹریچر سے اس موقع پر یکدم دھاوا بولنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے تا جنگ کے بعد دو چار سال میں ہی ان کو دین کی طرف لے آئیں کیونکہ اب ان کے دل کمزور ہو چکے ہیں۔وہ ڈرے ہوئے ہیں اور ان کے دل خوف محسوس کرتے ہیں اور ایک رغبت پیدا ہو چکی ہے۔چاہئے کہ ہم اس وقت سے پہلے فائدہ اٹھا لیں اور سچائی کا پیغام ان تک پہنچا دیں۔پیشتر اس کے کہ پھر ان کے دل سخت ہو جائیں۔جب ان میں سے کچھ لوگ مان لیں گے وہ پھر یہ نہ کہہ سکیں گے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔بے شک ایشیائی لوگوں کے متعلق ان کا یہی خیال ہے کہ یہ مذہبی دیوانے ہیں مگر جب ان ہی کی قسم کے لوگ مان لیں گے وہ ہم حالات ہم پیشہ ہوں گے۔جب وہ ان سے بات کریں گے تو وہ نسبت زیادہ توجہ سے بات سنیں گے۔اگر اس وقت وہ کسی کو پاگل سمجھیں گے بھی تو چھوٹی قسم کا۔اگر اب وہ 90 فیصدی کو پاگل کہتے ہیں تو پھر شاید دس فیصدی کے متعلق خیال کریں گے کیونکہ ان کو نظر آرہا ہو گا کہ وہ ان کے ہی ہم خیال، ہم مذہب وملت تھے۔غرض جوں جوں جنگ خاتمہ کی طرف آرہی ہے ہماری ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں اور جو میدان تبلیغ کے لئے خالی کیا جا رہا ہے وہ شاید چار پانچ سال تک ہی رہے گا۔1914ء کی جنگ جو 1918ء میں ختم ہوئی جب اس کے بعد میں 1924ء میں لنڈن گیا تو گو اس کا