خطبات محمود (جلد 24) — Page 196
خطبات محمود 196 $1943 لوگوں کے دلوں پر اثر تھا مگر وہ حالت نہ تھی جو 1918ء میں تھی۔اس میں کمی آگئی تھی اور اتنا ڈر نہ رہا تھا۔پھر ایک اور بات بھی ہے۔پہلی جنگ کے بعد لوگوں کے دلوں میں عام طور پر مذہب کی طرف توجہ پیدا نہ ہوئی تھی بلکہ یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ یہ تھوڑے دنوں کی زندگی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ لطف اٹھانا چاہیئے۔پس وہ زیادہ عیش اور آزادی کی زندگی گزارنے لگ گئے تھے۔مگر اس جنگ کے بعد یورپ کچھ عرصہ کے لئے مذہب کی طرف مائل رہے گا۔اس دفعہ جو خرچ ہو رہا ہے وہ بھی پہلے سے زیادہ ہے۔ان کو مالی لحاظ سے صدمہ بھی زیادہ ہے کیونکہ انگریزوں کا خرچ گزشتہ جنگ سے دو چند ہو چکا ہے۔شاید آخر تک تین چار گنا ہو جائے۔امریکہ کا تو دس گنا ہو گیا ہے۔خرچ کے ہند سے پڑھتے ہوئے ڈر آتا ہے کہ دنیا کی مالی حالت کیسی ہو جائے گی۔عام طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ اربوں کے الفاظ صرف اندازہ کے لئے ہیں۔عملی دنیا میں ان کا کوئی کام نہیں مگر اب تو خرچ اربوں نہیں بلکہ کھربوں میں جاتا ہے۔یہ سب خرچ کام کرنے والی آبادی کی تباہی اور حادثات یہ چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ان کی کچھ عرصہ دین کی طرف توجہ رہے گی۔پس یہ دن ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے داغ بیل ڈال دی ہے۔ہم کو پہلے سے ہی توجہ کرنی چاہیئے۔قبل اس کے کہ اس کے نشان مٹ جائیں۔پس جماعت کی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں۔نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔تحریک جدید میں جنہوں نے حصہ لیا ہے وہ اور بڑھ کر حصہ لیں۔اس سال کے جن کے بقائے ہیں وہ ادا کریں۔اب نیا سال آنے والا ہے اور وہ اس دور کا آخری سال ہے۔اس کے لئے کیا ذمہ داریوں کے لحاظ سے اور کیا آخری منزل کے لحاظ سے زیادہ زور لگانا چاہیئے۔پھر نہ معلوم نئی تحریک کس قسم کی ہو گی۔بہر حال اسے تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔وہ آپ بہتر سمجھا دے گا مگر ہمیں ابھی سے کیا مالی لحاظ سے اور کیا وقتی لحاظ سے تیاری شروع کر دینی چاہئے۔نوجوانوں میں دین کا شوق پیدا کیا جائے اور وہ پہلے سے تیاری کر لیں تاکہ جب سلسلہ کے پھیلانے کے دن آئیں یہ تیاری ہمارے کام آسکے اور جس جس قربانی کی بھی اشاعت اسلام کے لئے ضرورت ہو۔ہم اس سے دریغ نہ کریں اور ہم پہلی قوموں سے