خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 162

$1943 162 خطبات محمود اسلامی حکومت رہی ہے اس لئے وہاں اب تک یہ دستور ہے کہ غرباء لشی کے ساتھ باجرے کی روٹی کھالیتے ہیں اور اُمراء دودھ کے ساتھ باجرے کی روٹی کھالیتے ہیں۔ایک دفعہ میں نے کچھ زمین خریدنے کے لئے ایک افسر کو مقرر کیا۔وہ افسر زمین خریدنے کے لئے میر خاندان کے اس فرد کے پاس پہنچا جس سے سودا ہونا طے ہوا تھا۔(میر خاندان سندھ پر ایک لمبے عرصہ تک حکومت کر چکا ہے اور اب بھی اس خاندان کے افراد اچھے بڑے زمیندار ہیں)۔اتفاق ایسا ہوا کہ میر صاحب اس وقت گھر پر نہیں تھے اور گو وہ ایسے بڑے زمینداروں میں سے نہیں مگر گورداسپور کے علاقہ کے لحاظ سے وہ اچھے بڑے زمیندار ہیں اور ان کی پندرہ سولہ سو ایکٹر نہری زمین ہے۔وہ چونکہ گھر پر نہیں تھے اس لئے یہ ان کی بیٹھک میں جا کر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک لڑکی آئی۔اس کے ہاتھ میں کٹورا تھا اور کٹورا ایک کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا جس کے اندر کوئی چیز تھی۔وہ کہتے ہیں میں نے سمجھا کہ یہ تھال ہے اور انہوں نے تھال پر کپڑا لپیٹ کر کٹورے کو ڈھانکا ہوا ہے۔لڑکی کٹورا رکھ کر اندر چلی گئی۔میں نے دیکھا تو اس میں دودھ تھا۔میں نے سمجھا کہ شاید گھر والوں نے ناشتہ کے طور پر دودھ بھجوایا ہے۔چنانچہ میں نے دودھ پی لیا۔میر صاحب کو آنے میں دیر ہو گئی اور وہ دو تین گھنٹہ کے بعد پہنچے۔آتے ہی انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب آپ نے کھانا کھا لیا ہے۔میں نے کہا نہیں۔کہنے لگے کیا ابھی تک کھانا نہیں آیا۔میں نے کہا نہیں آیا۔خیر وہ اندر گئے اور انہوں نے گھر والوں سے کہا کہ اب تک کھانا کیوں نہیں بھجوایا اور خواہ مخواہ مجھے شرمندہ کر وایا ہے۔وہ دوست کہتے ہیں کہ میں بھی ان کی آپس کی باتیں سن رہا تھا۔گھر والوں نے کہا کہ کھانا تو دو تین گھنٹے ہوئے ہم بھجواچکے ہیں۔وہ کہنے لگے بھجوایا کہاں ہے۔میں ابھی پوچھ کر آیا ہوں اور وہ کہتے ہیں کہ کھانا نہیں آیا۔بیوی کہنے لگی کہ میں نے فلاں لڑکی کے ہاتھ کھانا بھجوایا تھا اور وہ ان کے پاس چھوڑ کر آگئی تھی۔خیر وہ پھر واپس آئے اور انہوں نے کٹورے کو پڑا ہوا دیکھا۔کٹورا چونکہ ڈھکا پڑا تھا اس لئے انہوں نے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو کٹورا خالی تھا۔کہنے لگے مولوی صاحب آپ نے دودھ پیا ہے۔میں نے کہا دودھ تو پی لیا ہے مگر کھانا نہیں کھایا۔انہوں نے اس کپڑے کو جو کٹورے پر رکھا ہوا تھا کھولا تو میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی