خطبات محمود (جلد 24) — Page 115
$1943 115 خطبات محمود نکلنے کے معنے یہ ہیں کہ ابھی صرف اس فصل پر تین مہینے گزرے ہیں مگر باوجو د اس کے کہ نئی فصل پر اتنا قلیل عرصہ گزرا ہے اور قریب ترین زمانہ میں چاولوں کی فصل تیار ہوئی ہے پھر بھی یہ حالت ہے کہ وہاں چالیس روپے من چاول فروخت ہو رہا ہے۔جب آجکل وہاں یہ حالت ہے تو تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ آئندہ چند ماہ میں وہاں کیا حالت ہو جائے گی۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہمارے ملک میں اگر اگست ستمبر میں ہی گندم کے ریٹ بڑھ جائیں تو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نومبر، دسمبر اور جنوری میں گندم کے ریٹ کا کیا حال ہو گا کیونکہ جولائی اگست میں گندم کی نئی فصل منڈیوں میں چلی جاتی ہے۔اسی طرح بنگال میں چاولوں کی موجودہ گرانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آگے چل کر یہ گرانی کس قدر خطرناک صورت اختیار کر لے گی۔جس طرح ہمارے ملک میں مئی، جون گندم کی نئی فصل کے گھر میں لانے کے مہینے ہوتے ہیں اسی طرح اکتوبر، نومبر اور دسمبر چاولوں کی نئی فصل کے گھر لانے کے مہینے ہوتے ہیں۔پس ہمارے ہاں گندم کے نرخ کی جو کیفیت اگست، ستمبر میں ہوتی ہے وہی مارچ، اپریل میں بنگال میں چاولوں کے نرخ کی کیفیت ہونی چاہیئے۔ہمارے ہاں جولائی ، اگست اور ستمبر میں ریٹ بہت گرے ہوئے ہوتے ہیں اور نومبر دسمبر میں بڑھ جاتے ہیں مگر وہاں آجکل ہی جبکہ چاول کی فصل پر تین مہینے گزرے ہیں یہ حالت ہو گئی ہے کہ بعض جگہ چالیس روپے من چاول اگر میسر آجائیں تو لوگ اسی کو غنیمت سمجھتے ہیں۔پس وہ یقیناً غیر صوبوں سے غلہ لے جانے کی کوشش کریں گے کیونکہ جب انہیں چاول نہیں ملے گا تو آخر اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گندم خریدیں گے اور گندم خریدنے کے لئے پنجاب کی طرف ہی آئیں گے۔میں نے جہاں تک لوگوں سے دریافت کیا ہے ان کی بناء پر میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر غیر معمولی حالات پیدا ہو جائیں تو اور بات ہے ورنہ شروع میں سات آٹھ روپیہ کے درمیان گندم کا ریٹ رہے گا۔بعد میں شاید 9، 10 روپے تک بھی پہنچ جائے۔گورنمنٹ نے اس نقص کو دور کرنے کے لئے آسٹریلیا سے گندم منگوائی ہے مگر وہ ایسی نہیں کہ اس ریٹ پر اثر ڈال سکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آسٹریلیا سے گندم آجانے کے نتیجہ میں اس ظالمانہ ریٹ پر اثر ضرور پڑا ہے جو اس سے پہلے بعض لوگوں نے گندم کا مقرر کر دیا تھا۔جیسے میں نے بتایا ہے