خطبات محمود (جلد 23) — Page 9
* 1942 9 خطبات محمود درخواست کروں گا۔ان سے التجا کروں گا اور اصرار کروں گا کہ وہ میری خواہش پوری کر دیں مگر یہ چیز اس کے دوستوں کے اختیار میں بھی نہیں ہوتی مثلا مہمان نوازی بڑے ثواب کا کام ہے۔مگر یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔اسی طرح کسی دوست کی دعوت کرنا یہ بھی انسان کے اختیار میں ہوتا ہے۔وہ اپنے دوست کے پاس جا کر کہہ سکتا ہے کہ میری خواہش ہے آپ آج کا کھانا ہمارے ہاں کھائیں اور وہ اس بات کو مان لیتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو ہم کھانے کے لئے بلانا چاہتے ہیں وہ بزرگ ہوتا ہے۔اس صورت میں ہم اس بزرگ کے پاس جا کر اس سے التجا کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کھانا کھایا جائے اور اصرار کے ساتھ اس کی عنایت کے طلبگار ہوتے ہیں۔تب اگر اس بزرگ کے پاس وقت ہوتا ہے اور وہ دعوت میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں دیکھتا تو ہماری بات مان لیتا ہے۔اسی طرح ہم اپنے خورد کے پاس جا کر پیار اور محبت سے چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے گھر آئے اور کھانا کھائے اور وہ ہماری بات مان لیتا ہے۔پس یہ چیز ایسی ہے جو ہمارے دوستوں کے قبضہ میں ہے مگر شہادت دوست کے قبضہ میں نہیں بلکہ دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہے اور اس میں درخواست التجا یا اصرار کا کوئی سوال ہی نہیں ہو تا۔یہ بات اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتی ہے کہ چاہے تو وہ مارے اور چاہے تو نہ مارے۔پھر یہ شہادت ان افعال میں سے ہے جن کو خدا نے گو بہت بڑے ثواب کا موجب قرار دیا ہے۔مگر ساتھ ہی اس قسم کے افعال کو اس نے روکنے کا حکم دیا ہے۔اس نے یہ تو بیشک کہا ہے کہ شہادت ایک بہت بلند مقام ہے اور جو شخص شہید ہوتا ہے وہ بہت بڑے ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ دشمن اگر تم پر حملہ کرے تو تم اس کا مقابلہ نہ کرو۔بلکہ اس نے یہی حکم دیا ہے کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے تو تم اس کا خوب مقابلہ کرو۔پس ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے شہادت کو نعمت قرار دیا ہے مگر دوسری طرف اسلام کی حفاظت کے خیال سے اس نعمت کی طرف دوڑ کر جانے سے منع کیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کیا کریں تاکہ اسلام کی حفاظت ہوتی رہے۔پس اول تو شہادت کی نعمت دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہے۔پھر جس کے سامنے شہادت کا موقع آتا ہے۔اسے بھی یہ اختیار نہیں ہو تا کہ وہ اسے فوراً قبول کر لے بلکہ اسے یہی حکم ہو تا ہے کہ دشمن کے حملہ کو