خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 8

* 1942 8 خطبات محمود صرف نیت اور ارادہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد بنایا ہے ورنہ اعمال حالات کے لحاظ سے بالکل بدلتے چلے جاتے ہیں۔اسی لئے رسول کریم صلی اللی کرم نے فرمایا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّات 1 یعنی اعمال نیتوں کے تابع سمجھے جاتے ہیں۔نیت عمل کے تابع نہیں سمجھی جاتی۔اس حدیث میں جہاں مومنوں کے لئے ایک عظیم الشان بشارت ہے۔وہاں منافقوں کے لئے ایک عظیم الشان تہدید بھی ہے۔مومنوں کے لئے اس میں بشارت اس طرح ہے کہ بعض اوقات مومن خدا تعالیٰ کی راہ میں پوری طرح اپنے دل کے حوصلے نہیں نکال سکتا۔وہ چاہتا ہے کہ میں دین کی راہ میں قربان ہو جاؤں۔مگر قربانی کا کوئی موقع ہی نہیں آتا اور اس کی خواہش دل میں ہی رہتی ہے کیونکہ محض قربانی کی خواہش کرنے سے کوئی شخص قربان نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی دشمن ہو اور وہ بھی محض دینی مخالفت کی بناء پر اس کو قتل کرے اور یہ چیز ایسی ہے جو کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔اور اگر کوئی شخص بجائے اس رنگ میں اپنی قربانی پیش کرنے کے کسی دوسرے شخص کے پاس جائے اور کہے کہ میری گردن پر کلہاڑی مار دو تا کہ میں خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان ہو جاؤں تو یہ قربانی نہیں کہلائے گی بلکہ خود کشی کہلائے گی۔ایسا شخص اگر نادان ہے تو اپنی نادانی کے مطابق خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا اور اگر عالم ہے اور اس نے دین کا علم رکھتے ہوئے اس فعل کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا۔بہر حال اس رنگ میں مرنے والا خود کشی کرنے والا ہی سمجھا جائے گا۔یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسے دین کے ساتھ بڑا عشق تھا اور اس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ہاں اگر کوئی شخص دین سے بغض رکھتے ہوئے اسے اسلام سے پھر انا چاہتا ہے اور جب وہ اسلام چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔تو اپنے اندرونی خبث کے نتیجہ میں اس پر حملہ کر دیتا ہے اور مومن جان سے مارا جاتا ہے۔تب اس کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ شہید ہو ا ہے اس کے بغیر نہیں تو شہادت کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ دوسرے کے اختیار میں ہوتی ہے اور دوسرا بھی کوئی دوست نہیں ہو تا جس کے اختیار میں یہ بات ہو بلکہ دشمن کے اختیار میں یہ بات ہوتی ہے۔جو کام دوستوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہو اس کے متعلق تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ میں وہ کام کرانے کے لئے اپنے دوستوں سے