خطبات محمود (جلد 23) — Page 68
$1942 68 خطبات محمود آئندہ پروگرام آپ لوگوں کی نظروں کے سامنے ہوں گے مگر ملک کی حالت ایسی خطرناک ہے کہ ظاہری عقل کے لحاظ سے آئندہ چھ ماہ کا پروگرام بھی نہیں بنایا جا سکتا۔زبر دست غنیم طوفان کی طرح ہندوستان کی طرف چلا آرہا ہے اور ہر روز اس کا قدم آگے ہی آگے پڑ رہا ہے۔پھر دوسری طرف سے بھی ہندوستان کی طرف خطرہ اس سال کم نظر نہیں آتا۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور وہی بتا سکتا ہے کہ آئندہ پروگرام اسلام اور احمدیت کے لئے کیا ہو گا۔ہم ایمانا اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام اور احمدیت کے لئے کوئی نیک صورت ہی پیدا ہو گی لیکن ہمارے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر نیکی پھولوں کی سیج پر چل کر نہیں ملا کرتی۔کئی اچھے انجام کانٹوں پر گھسٹنے کے بعد حاصل ہوتے ہیں اور کئی زندگیاں بار بار موت کی چاشنی چکھنے کے بعد ملتی ہیں۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ سال ہمارے لئے کس قسم کی مشکلات، تکالیف، ٹھوکریں اور ابتلاء اپنے اندر مخفی رکھتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری طاقتوں سے زیادہ مصائب نہ ڈالے۔ہمارے دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے، ہمارے شیر ازہ کو بکھرنے سے بچائے، ہمارے قدم پیچھے پڑنے سے روکے اور اپنے رحم اور فضل سے ہمارے کاموں میں سہولتیں بہم پہنچائے اور ہمارے نفسوں کی اصلاح کر دے تاہم وہی کام کریں جو اس کی مرضی کے مطابق ہوں۔یہ دن بہت ہی نازک ہیں۔اس بارہ میں میں جتنا بھی کہوں تھوڑا ہے اور جتنا بھی میرے الفاظ کے معنے آپ بڑھا کر کریں کم ہے۔پس ان ایام کی نزاکت کو محسوس کرو اور اپنے آپ کو ایک بے جان چیز کی طرح خدا تعالیٰ کے آگے ڈال دو کہ وہی حفاظت کر سکتا ہے۔نہ حملہ آور ہمارے ہاتھ میں ہے اور نہ دفاع ہمارے اختیار میں ہے۔سودا ہماری جانوں کا ہو رہا ہے مگر ہماری رائے کا کوئی دخل نہیں۔ہماری مثال اس غلام کی سی ہے جو منڈی میں بکنے کے لئے لایا گیا ہو۔فروخت کرنے والا اس کی خوبیاں بیان کرتا اور اس کے عیوب کو چھپاتا ہے اور لینے والا اس کی قیمت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔دونوں طرف سے قیمتوں کے اندازے ہوتے ہیں مگر اس غلام سے کوئی پوچھتا تک بھی نہیں کہ اس کا منشاء وہاں جانے کا ہے بھی یا نہیں جہاں اسے بھیجنے کی گفتگو ہورہی ہے۔