خطبات محمود (جلد 23) — Page 572
* 1942 572 خطبات محمود خالی ہے۔صرف چند بڑے بڑے امراء کے پاس گھوڑے ہوتے ہیں عام لوگ اپنے پاس گدھے رکھتے ہیں کیونکہ گدھے سادہ خوراک پر بھی رکھے جاسکتے ہیں۔بہر حال مکہ والوں نے کہا۔ہم اس کی روٹی بند کر دیں گے۔یہ آپ ہی تباہ ہو جائے گا۔ہمارے رب نے اس کا کیا ہی لطیف جواب دیا۔ہمارے رب نے کہا تم محمدصلی الی یکم کی روٹی کیا بند کرتے ہو۔ہم ہمیشہ تمہاری روٹی محمدعلی ایم کے ذمہ لگا دیتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر دنیا کے چاروں طرف سے حاجی مکہ مکرمہ میں نہ جائیں تو مکہ کے لوگ بھوکے مر جائیں۔ہر سال ہزاروں نہیں لاکھوں حاجی، کروڑوں روپیہ خرچ کر کے وہاں جاتے اور اس طرح مکہ والوں کے لئے سامان معیشت بہم پہنچاتے ہیں۔یہ کیسا شاندار اور رحم والا بدلہ ہے جو خدا نے اپنے رسول کے لئے لیا۔انہوں نے کہا تھا ہم اس کی روٹیاں بند کر دیں گے۔خدا تعالیٰ نے کہا اب ہم قیامت تک تمہاری روٹیاں اس رسول کے طفیل لگا دیتے ہیں۔عام حالات میں علاوہ عرب کے حاجیوں کے ہر سال چالیس پچاس ہزار حاجی باہر سے وہاں جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو تعداد لاکھ دو لاکھ تک بھی پہنچ جاتی ہے اور ہر ایک حاجی وہاں اوسطاً تین چار سو روپیہ سے لے کر دو دو چار چار ہزار روپیہ تک خرچ کرتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ان دنوں میں باہر سے جانے والے حاجی ڈیڑھ کروڑ سے لے کر پندرہ بیس کروڑ روپیہ تک ہی قدر مراتب اور مختلف سالوں کے لحاظ سے کہ کبھی حاجی کم آتے ہیں اور کبھی زیادہ اور مختلف موسموں کے لحاظ سے کہ کبھی چیزیں مہنگی ہوتی ہیں اور کبھی سستی۔وہاں خرچ کرتے ہیں۔اگر اوسط تین چار کروڑ روپیہ بھی فرض کر لیں تو کم از کم چار کروڑ روپیہ ان دنوں میں وہاں جا پہنچتا ہے۔اس کے علاوہ گورنمنٹ کا بھی ٹیکس ہوتا ہے اور یہ ٹیکس ان ٹیکسوں کے علاوہ ہے جو گور نمنٹ بالواسطہ وصول کرتی ہے مثلاً وہاں کھانے پینے کی چیزوں پر بھی ٹیکس ہوتا ہے۔اسی طرح اگر دکاندار کوئی اور چیز بیچے تو اسے اپنی آمد کا ایک حصہ گورنمنٹ کو ادا کرنا پڑتا ہے۔اندازہ کیا جاتا ہے کہ اگر حاجی وہاں نہ جائیں تو عرب حکومت چند سالوں میں ہی متزلزل ہو جائے کیونکہ اس کی آمد کا بہت بڑا حصہ حاجیوں سے وابستہ ہوتا ہے۔اب دیکھو آج تیرہ سوسال گزرنے کے بعد جو نظارہ ہمیں نظر آرہا ہے اور جو شان و شوکت محمد رسول اللہ صلی علی کیم کی ہمیں دکھائی دے رہی ہے اس کا